كِتَاب التَّوْبَةِ توبہ کا بیان

حدثنا عثمان بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم واللفظ لعثمان، قال إسحاق اخبرنا، وقال عثمان: حدثنا جرير ، عن الاعمش ، عن عمارة بن عمير ، عن الحارث بن سويد ، قال: دخلت على عبد الله اعوده وهو مريض، فحدثنا بحديثين حديثا عن نفسه، وحديثا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " لله اشد فرحا بتوبة عبده المؤمن من رجل في ارض دوية مهلكة معه راحلته عليها طعامه وشرابه، فنام فاستيقظ وقد ذهبت، فطلبها حتى ادركه العطش، ثم قال: ارجع إلى مكاني الذي كنت فيه، فانام حتى اموت، فوضع راسه على ساعده ليموت، فاستيقظ وعنده راحلته وعليها زاده وطعامه وشرابه، فالله اشد فرحا بتوبة العبد المؤمن من هذا براحلته " وزاده،

‏‏‏‏ سیدنا حارث بن سوید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں عبداللہ کے پاس گیا ان کی تیمارداری کو وہ بیمار تھے، انہوں نے مجھ سے دو حدیثیں بیان کیں، ایک اپنی طرف سے اور ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ انہوں نے کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: البتہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ مومن کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جیسے کوئی شخص ایک پٹ پر میدان میں (جہاں نہ سایہ ہو نہ پانی) جو ہلاک کرنے والا ہو سو جائے اور اس کے ساتھ اس کا اونٹ ہو جس پر اس کا کھانا اور پانی ہو جب وہ جاگے تو اپنا اونٹ نہ پائے، پھر اس کو ڈھونڈے یہاں تک کہ پیاسا ہو جائے، پھر کہے میں لوٹ جاؤں جہاں تھا اور سوتے سوتے مر جاؤں، پھر اپنا سر اپنے بازو پر رکھے مرنے کے لیے پھر جو جاگے تو اپنا اونٹ اپنے پاس پائے اس پر اس کا توشہ ہو کھانا بھی اور پانی بھی، تو اللہ تعالیٰ کو مومن بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی اس شخص کو اپنے اونٹ اور توشہ ملنے سے ہوتی ہے۔

صحيح مسلم # 6955
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp