حدثني امية بن بسطام العيشي ، حدثنا يزيد يعني ابن زريع ، حدثنا روح وهو ابن القاسم ، عن سهيل ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، ان فاطمة اتت النبي صلى الله عليه وسلم تساله خادما وشكت العمل، فقال: ما الفيتيه عندنا، قال: " الا ادلك على ما هو خير لك من خادم؟ تسبحين ثلاثا وثلاثين، وتحمدين ثلاثا وثلاثين، وتكبرين اربعا وثلاثين حين تاخذين مضجعك "،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ کے پاس آئیں ایک خادم مانگنے کو اور شکایت کی کہ مجھ کو بہت کام کرنا پڑتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”میرے پاس تو خادم نہیں ہے البتہ میں تجھ کو وہ چیز بتاتا ہوں جو خادم سے بہتر ہے تینتیس بار سبحان اللہ کہہ اور تینتیس بار الحمد اللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر جب تو سونے لگے۔“