كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار

حدثنا قتيبة بن سعيد ، وعمرو الناقد ، وابن ابي عمر واللفظ لابن ابي عمر، قالوا: حدثنا سفيان ، عن محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة، عن كريب ، عن ابن عباس ، عن جويرية ، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج من عندها بكرة حين صلى الصبح وهي في مسجدها، ثم رجع بعد ان اضحى وهي جالسة، فقال: " ما زلت على الحال التي فارقتك عليها؟ " قالت: نعم، قال النبي صلى الله عليه وسلم: " لقد قلت بعدك اربع كلمات ثلاث مرات، لو وزنت بما قلت منذ اليوم لوزنتهن سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته "،

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے ان کے پاس سے نکلے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی وہ اپنی نماز کی جگہ میں تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت لوٹے، دیکھا تو وہ وہیں بیٹھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی حال میں رہیں جب سے میں نے تم کو چھوڑا۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے بعد چار کلمے کہے تین بار اگر وہ تولے جائیں ان کلموں کے ساتھ جو تو نے اب تک کہے ہیں البتہ وہی بھاری پڑیں گے وہ کلمے یہ ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ» یعنی میں اللہ کی پاکی بولتا ہوں خوبیوں کے ساتھ اس کی مخلوقات کے شمار کے برابر اور اس کی رضا مندی اور خوشی کے برابر اور اس کے عرش کے تول کے برابر اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر (یعنی بے انتہا اس لیے کہ اللہ کے کلموں کی کوئی حد نہیں، سارا سمندر اگر سیاہی ہو وہ ختم ہو جائے اور اللہ کے کلمے تمام نہ ہوں)۔

صحيح مسلم # 6913
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp