حدثني زهير بن حرب ، حدثنا جرير ، عن سهيل ، قال: كان ابو صالح يامرنا إذا اراد احدنا ان ينام ان يضطجع على شقه الايمن، ثم يقول: " اللهم رب السماوات ورب الارض، ورب العرش العظيم، ربنا ورب كل شيء، فالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والفرقان، اعوذ بك من شر كل شيء انت آخذ بناصيته، اللهم انت الاول فليس قبلك شيء، وانت الآخر فليس بعدك شيء، وانت الظاهر فليس فوقك شيء، وانت الباطن فليس دونك شيء، اقض عنا الدين واغننا من الفقر " وكان يروي ذلك، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم،
سہل سے روایت ہے، کہا جب ہم میں سے کوئی سونے لگتا تو ابوصالح کہتے داہنی کروٹ پر سوؤ اور یہ دعا پڑھو ” «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَىْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَىْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَىْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» یعنی اے مالک آسمانوں کے اور مالک زمین کے اور مالک بڑے عرش کے اور مالک ہمارے اور مالک پر چیز کے، چیرنے والے دانے اور گھٹلی کے (درخت اگانے کے لیے) اور اتارنے والے تورات اور انجیل اور قرآن کے، پناہ مانگتا ہوں میں تیری ہر چیز کے شر سے جس کی پیشانی تو تھامے ہے (یعنی تیرے اختیار میں ہے) تو سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں تو سب کے بعد ہے تیرے بعد کوئی شے نہیں، (یعنی ازلی اور ابدی ہے) تو ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی شے نہیں، تو باطن ہے (یعنی لوگوں کی نظر سے چھپا ہوا) تجھ سے ورے کوئی شے نہیں، (یعنی تجھ سے زیادہ چھپی ہوئی) ادا کر دے قرض ہمارے اور امیر کر دے ہم کو محتاجی دور کر کے۔“ ابوصالح اس دعا کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ سے۔