حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا ابو داود ، حدثنا شعبة . ح وحدثنا ابن بشار ، حدثنا عبد الرحمن ، وابو داود ، قالا: حدثنا شعبة ، عن عمرو بن مرة ، قال: سمعت سعد بن عبيدة يحدث، عن البراء بن عازب ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر رجلا إذا اخذ مضجعه من الليل ان يقول: " اللهم اسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، والجات ظهري إليك، وفوضت امري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجا ولا منجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي انزلت وبرسولك الذي ارسلت، فإن مات مات على الفطرة "، ولم يذكر ابن بشار في حديثه من الليل،
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو وہ «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِى إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِى إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِى إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِى أَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِكَ الَّذِى أَرْسَلْتَ. فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ» پڑھے”اے الله! ميں نے اپنی جان تیرے سپرد کی اور میں نے اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کیا اور میں نے اپنی پشت تیری پناہ میں دی اور میں نے اپنا معاملہ رغبت اور خوف سے تیرے سپرد کیا۔ پناہ اور نجات کی جگہ تیرے سوا کوئی نہیں۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے۔ پس اگر وہ آدمی مر گیا تو فطرت پر مرا۔“ اور ابن بشار نے اپنی حدیث میں رات کا ذکر نہیں کیا۔