حدثنا عثمان بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم واللفظ لعثمان، قال إسحاق: اخبرنا، وقال عثمان: حدثنا جرير ، عن منصور ، عن سعد بن عبيدة ، حدثني البراء بن عازب ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إذا اخذت مضجعك فتوضا وضوءك للصلاة، ثم اضطجع على شقك الايمن، ثم قل: اللهم إني اسلمت وجهي إليك، وفوضت امري إليك، والجات ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجا ولا منجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي انزلت وبنبيك الذي ارسلت، واجعلهن من آخر كلامك: فإن مت من ليلتك مت وانت على الفطرة "، قال: فرددتهن لاستذكرهن، فقلت: آمنت برسولك الذي ارسلت، قال: قل: آمنت بنبيك الذي ارسلت،
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو سونے کو جائے تو وضو کر جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہیں پھر داہنی کروٹ پر لیٹ اور کہہ «اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْلَمْتُ وَجْهِى إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِى إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِى أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِى أَرْسَلْتَ وَاجْعَلْهُنَّ مِنْ آخِرِ كَلاَمِكَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ وَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ» یعنی یا للہ! میں نے اپنا منہ رکھ دیا تیرے لیے اور اپنا کام سونپ دیا تجھ کو اور تجھ پر بھروسا کیا تیرے ثواب کی خواہش سے تیرے عذاب سے ڈر کر سوائے تیرے کوئی ٹھکانا اور پناہ نہیں تجھ سے، ایمان لایا میں تیری کتاب پر جو تو نے اتاری اور تیرے نبی پر جس کو تو نے بھیجا اور تیری آخری بات یہی دعا ہو، پھر اگر تو مرجائے اس رات کو تو مرے گا اسلام پر۔“ (اور خاتمہ بالخیر ہو گا) براء نے کہا: کہ میں نے ان کلموں کو دوبارہ پڑھا یاد کرنے کے لیے تو «بِنَبِيِّكَ» کے بدلے «بِرَسُولِكَ» کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «بِنَبِيِّكَ» کہہ۔“