كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل ، وابو معاوية ، عن عاصم ، عن ابي عثمان ، عن ابي موسى ، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فجعل الناس يجهرون بالتكبير، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " ايها الناس اربعوا على انفسكم إنكم ليس تدعون اصم، ولا غائبا إنكم تدعون سميعا قريبا وهو معكم، قال: وانا خلفه وانا اقول لا حول ولا قوة إلا بالله "، فقال: يا عبد الله بن قيس: " الا ادلك على كنز من كنوز الجنة؟ "، فقلت: بلى يا رسول الله، قال: " قل لا حول ولا قوة إلا بالله "،

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک سفر میں، لوگ پکار کر تکبیر کہنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! نرمی کرو اپنی جانوں پر (یعنی آہستہ سے ذکر کرو) کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے ہو، تم پکارتے ہو اس کو جو (ہر جگہ سے) سنتا ہے، نزدیک ہے اور تمہارے ساتھ ہے۔ (یعنی علم اور احاطہ سے نووی رحمہ اللہ) سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا اور میں «لا حول ولا قوة الا بالله» کہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! میں تجھ کو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتلاؤں۔ میں نے عرض کیا: بتلائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہہ «لا حول ولا قوة الا بالله» (یہ کلمہ تفویض کا ہے اور اس میں اقرار ہے کہ اور کسی کو نہ طاقت ہے، نہ قدرت اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔)

صحيح مسلم # 6862
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp