حدثنا سعيد بن عمرو الاشعثي ، اخبرنا عبثر ، عن مطرف ، عن عامر ، عن شريح بن هانئ ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من احب لقاء الله احب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه "، قال: فاتيت عائشة ، فقلت يا ام المؤمنين: سمعت ابا هريرة يذكر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا إن كان كذلك فقد هلكنا، فقالت: إن الهالك من هلك بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم وما ذاك؟ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من احب لقاء الله احب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه " وليس منا احد إلا وهو يكره الموت، فقالت: قد قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس بالذي تذهب إليه، ولكن إذا شخص البصر وحشرج الصدر واقشعر الجلد وتشنجت الاصابع، فعند ذلك من احب لقاء الله احب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه،
شریح بن ہانی رحمہ اللہ سے روایت ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔“ میں یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: اے ام المؤمنین! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اگر وہ حدیث ٹھیک ہو تو ہم سب تباہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے سے جو ہلاک ہوا وہی حقیقت میں ہلاک ہوا۔ کہہ تو وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنا نہیں چاہتا اللہ بھی اس سے ملنا نہیں چاہتا۔“ اور ہم میں سے تو کوئی ایسا نہیں ہے جو مرنے کو برا نہ سمجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بے شک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے جو تو سمجھتا ہے بلکہ جب آنکھیں پھر جائیں اور دم رک جائے سینہ میں اور روئیں بدن پر کھڑی ہو جائیں اور انگلیاں ٹیڑھی ہو جائیں (یعنی نزع کی حالت میں) اس وقت جو اللہ سے ملنا پسند کرے اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرے اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔