حدثنا محمد بن عبد الله الرزي ، حدثنا خالد بن الحارث الهجيمي ، حدثنا سعيد ، عن قتادة ، عن زرارة ، عن سعد بن هشام ، عن عائشة ، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من احب لقاء الله احب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه "، فقلت: يا نبي الله، اكراهية الموت فكلنا نكره الموت، فقال: " ليس كذلك، ولكن المؤمن إذا بشر برحمة الله ورضوانه وجنته احب لقاء الله، فاحب الله لقاءه، وإن الكافر إذا بشر بعذاب الله وسخطه كره لقاء الله وكره الله لقاءه "،
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنا نہیں چاہتا اللہ بھی اس سے ملنا نہیں چاہتا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! موت کو تو ہم میں سے سب ناپسند کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ مطلب نہیں بلکہ مومن جب (اس کا آخر وقت آ جاتا ہے) خوشخبری دیا جاتا ہے اللہ کی رحمت اور رضا مندی کی اور جنت تو وہ اللہ سے ملنا چاہتا ہے (اور بیماری اور دنیا کے مکر وہات سے جلد خلاصی پانا) اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور کافر جب (آخیر وقت آتا ہے) اس کو خبر دی جاتی ہے اللہ کے عذاب اور غصہ کی تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند نہیں کرتا اللہ عزوجل بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔“