حدثنا حدثنا قتيبة بن سعيد ، وزهير بن حرب واللفظ لقتيبة، قالا: حدثنا جرير ، عن الاعمش ، عن ابي صالح ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يقول الله عز وجل: انا عند ظن عبدي بي، وانا معه حين يذكرني إن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، وإن ذكرني في ملإ ذكرته في ملإ هم خير منهم، وإن تقرب مني شبرا تقربت إليه ذراعا، وإن تقرب إلي ذراعا تقربت منه باعا، وإن اتاني يمشي اتيته هرولة "،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے خیال کے پاس ہوں (یعنی اس کے گمان اور اٹکل ساتھ نووی رحمہ اللہ نے کہا: یعنی بخشش سے اور قبول سے اس کے ساتھ ہوں) اور میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں (رحمت اور توفیق اور ہداہت اور حفاظت سے) جب وہ مجھ کو یاد کرتا ہے اگر وہ مجھ کو اپنے جی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر مجمع میں مجھ یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس مجمع میں یاد کرتا ہوں جو اس کے مجمع سے بہتر ہے (یعنی فرشتوں کے مجمع میں) اور جب بندہ ایک بالشت میرے نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ مجھ سے نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک «باع» (دونوں ہاتھ کے پھیلاؤ کے برابر) اس سے نزدیک ہو جاتا ہوں اور جب وہ میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہوں۔“