كِتَاب الْعِلْمِ علم کا بیان

حدثنا ابو كامل فضيل بن حسين الجحدري ، حدثنا حماد بن زيد ، حدثنا ابو عمران الجوني ، قال: كتب إلي عبد الله بن رباح الانصاري ، ان عبد الله بن عمرو ، قال: هجرت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما، قال: فسمع اصوات رجلين اختلفا في آية، فخرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرف في وجهه الغضب، فقال: " إنما هلك من كان قبلكم باختلافهم في الكتاب ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن میں سویرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپ نے دو شخصوں کی آواز سنی جو ایک آیت میں جھگڑ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور آپ کے چہرے پر غصہ معلوم ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگ تباہ ہوئے اللہ کی کتاب میں جھگڑا کرنے سے۔ (جو نفسانیت اور فساد کی نیت سے ہو یا لوگوں کو بہکانے کے لیے لیکن مطلب کی تحقیق کے لیے اور دین کے احکام نکالنے کے لیے درست ہے۔ نووی رحمہ اللہ)۔

صحيح مسلم # 6776
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp