حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابن نمير ، قالا: حدثنا عبد الله بن إدريس ، عن ربيعة بن عثمان ، عن محمد بن يحيي بن حبان ، عن الاعرج ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " المؤمن القوي خير واحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كل خير احرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز، وإن اصابك شيء فلا تقل: لو اني فعلت كان كذا وكذا، ولكن قل: قدر الله وما شاء فعل، فإن لو تفتح عمل الشيطان ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زبردست مسلمان (زبردست سے مراد وہ ہے جس کا ایمان قوی ہو، اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھتا ہو، آخرت کے کاموں میں ہمت والا ہو) اللہ کے نزدیک بہتر اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے ناتواں مسلمان سے اور ہر ایک طرح کا مسلمان بہتر ہے، حرص کر ان کاموں کی جو تجھ کو مفید ہیں (یعنی آخرت میں کام دیں گے) اور مدد مانگ اللہ سے اور ہمت مت ہار اور تجھ پر کوئی مصیبت آئے تو یوں مت کہہ اگر میں ایسا کرتا تو یہ مصیبت کیوں آتی لیکن یوں کہہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں ایسا ہی تھا جو اس نے چاہا کیا۔ اگر مگر کرنا شیطان کے لیے راہ کھولنا ہے۔“ (یعنی جو اس اعتقاد سے کہے کہ اسباب کی تاثیر مستقل ہے اور اگر یہ سبب نہ ہوتا تو مصیبت نہ آتی تو وہ اسلام سے نکل گیا اس لیے کہ ہر ایک کام اللہ کی مشیت کے بغیر نہیں ہوتا اور جو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر اعتقاد رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اسباب کی تاثیر بھی اس کے حکم سے ہے اس کو اگر مگر کہنا جائز نہیں اور اس کی مثال یہ ہے کہ مومن کہتا ہے بارش اچھی ہوئی اب کے غلہ بہت ہو گا اور کافر بھی کہتا ہے پر مومن کا کہنا اور اعتقاد سے ہے اور کافر کا کہنا اور اعتقاد سے اور جو اعتقاد کافر کا ہے اس اعتقاد سے یہ کلمہ کہنا درست نہیں اور مومن کے اعتقاد سے درست ہے۔)