حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، وحجاج بن الشاعر ، واللفظ لحجاج، قال إسحاق: اخبرنا، وقال حجاج: حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا الثوري ، عن علقمة بن مرثد ، عن المغيرة بن عبد الله اليشكري ، عن معرور بن سويد ، عن عبد الله بن مسعود ، قال: قالت ام حبيبة: " اللهم متعني بزوجي رسول الله صلى الله عليه وسلم، وبابي ابي سفيان، وباخي معاوية، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنك سالت الله لآجال مضروبة، وآثار موطوءة، وارزاق مقسومة لا يعجل شيئا منها قبل حله، ولا يؤخر منها شيئا بعد حله، ولو سالت الله ان يعافيك من عذاب في النار وعذاب في القبر، لكان خيرا لك "، قال: فقال رجل: يا رسول الله، القردة والخنازير هي مما مسخ؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن الله عز وجل لم يهلك قوما او يعذب قوما، فيجعل لهم نسلا، وإن القردة والخنازير كانوا قبل ذلك.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ نے کہا: یا اللہ! تو مجھ کو فائدہ اٹھانے دے میرے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور میرے باپ ابوسفیان سے اور میرے بھائی معاویہ سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تو نے اللہ سے سے ان باتوں کے لیے کہا جن کی میعادیں مقرر ہیں اور قدم تک جو چلیں لکھے ہوئے ہیں اور روزیاں بٹی ہوئی ہیں ان میں سے کسی چیز کو اللہ اس کے وقت سے پہلے یا وقت کے بعد دیر سے کرنے والا نہیں۔ اگر تو اللہ سے یہ مانگتی کہ تجھ کو بچائے جہنم کے عذاب سے یا قبر کے عذاب سے تو بہتر ہوتا۔“ ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! جو مسخ ہوئے تھے بندر اور سور ان لوگوں میں سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو ہلاک کیا یا عذاب دیا ان کی نسل نہیں چلائی اور بندر اور سور تو ان لوگوں سے پہلے موجود تھے۔“