كِتَاب الْقَدَرِ تقدیر کا بیان

حدثنا حاجب بن الوليد ، حدثنا محمد بن حرب ، عن الزبيدي ، عن الزهري ، اخبرني سعيد بن المسيب ، عن ابي هريرة ، انه كان يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما من مولود إلا يولد على الفطرة، فابواه يهودانه، وينصرانه، ويمجسانه، كما تنتج البهيمة بهيمة جمعاء، هل تحسون فيها من جدعاء؟ ثم يقول ابو هريرة: واقرءوا إن شئتم: فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله سورة الروم آية 30 الآية ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک بچہ پیدا ہوتا ہے فطرت پر (یعنی اس عہد پر جو روحوں سے لیا گیا تھا یا اس سعادت اور رشقاوت پر جو خاتمہ میں ہونے والی ہے یا اسلام پر یا اسلام کی قابلیت پر) پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بناتے ہیں اور نصرانی بناتے ہیں اور مجوسی بناتے ہیں جیسے جانور چار پاؤں والا وہ ہمیشہ سالم جانور جنتا ہے کسی کو تم دیکھتے ہو کان کٹا ہوا پیدا ہوا، پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے تمہارا جی چاہے تو اس کو آیت پڑھو «فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّه» یعنی اللہ کی پیدائش جس پر بنایا لوگوں کو، اللہ کی پیدائش نہیں بدلتی۔

صحيح مسلم # 6755
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp