كِتَاب الْقَدَرِ تقدیر کا بیان

حدثنا إسحاق بن موسى بن عبد الله بن موسى بن عبد الله بن يزيد الانصاري ، حدثنا انس بن عياض ، حدثني الحارث بن ابي ذباب ، عن يزيد وهو ابن هرمز ، وعبد الرحمن الاعرج ، قالا: سمعنا ابا هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " احتج آدم، وموسى عليهما السلام عند ربهما، فحج آدم موسى، قال موسى: انت آدم الذي خلقك الله بيده، ونفخ فيك من روحه، واسجد لك ملائكته واسكنك في جنته، ثم اهبطت الناس بخطيئتك إلى الارض، فقال آدم: انت موسى الذي اصطفاك الله برسالته وبكلامه، واعطاك الالواح فيها تبيان كل شيء، وقربك نجيا، فبكم وجدت الله كتب التوراة قبل ان اخلق؟ قال موسى: باربعين عاما، قال آدم: فهل وجدت فيها: وعصى آدم ربه فغوى سورة طه آية 121، قال: نعم، قال: افتلومني على ان عملت عملا كتبه الله علي ان اعمله قبل ان يخلقني باربعين سنة؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فحج آدم موسى ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم اور موسیٰ علیہم السلام نے بحث کی اپنے پروردگار کے پاس تو آدم علیہ السلام غالب ہو ئے موسیٰ علیہ السلام پر، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تم وہی آدم ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی روح تم میں پھونکی اور تم کو سجدہ کرایا فرشتوں سے (یعنی سلامی کا سجدہ نہ کہ عبادت کا اور سلامی کا سجدہ اس وقت جائز تھا۔ ہمارے دین میں سوا اللہ کے دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہو گیا) اور تم کو اپنی جنت میں رہنے کو جگہ دی، پھر تم نے اپنی خطا کی وجہ سے لوگوں کو زمین پر اتارا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: تم وہ موسیٰ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اپنا پیغمبر کر کے اور کلام کر کے اور تم کو اللہ تعالیٰ نے تورات شریف کی تختیاں دیں جن میں ہر بات کا بیان ہے اور تم کو اپنے نزدیک کیا سرگوشی کے لیے اور تم کیا سمجھتے ہو اللہ تعالیٰ نے تورات کو میرے پیدا ہونے سے کتنی مدت پہلے لکھا؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: چالیس برس پہلے۔ آدم علیہ السلام نے کہا: تم نے تورات میں نہیں پڑھا کہ آدم نے اپنے رب کے فرمانے کے خلاف کیا اور بھٹک گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیوں نہیں، میں نے پڑھا ہے۔ آدم علیہ السلام نے کہا: پھر تم مجھ کو ملامت کرتے ہو اس کام کے کرنے پر جو میری تقدیر میں اللہ نے میرے پیدا ہونے سے چالیس برس پہلے لکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو آدم علیہ السلام غالب آئے موسیٰ علیہ السلام پر۔

صحيح مسلم # 6744
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp