حدثنا احمد بن يونس ، حدثنا زهير ، حدثنا ابو الزبير . ح وحدثنا يحيي بن يحيي ، اخبرنا ابو خيثمة ، عن ابي الزبير ، عن جابر ، قال: جاء سراقة بن مالك بن جعشم، قال: يا رسول الله، بين لنا ديننا كانا خلقنا الآن، فيما العمل اليوم؟ افيما جفت به الاقلام وجرت به المقادير؟ ام فيما نستقبل؟ قال: لا، بل فيما جفت به الاقلام وجرت به المقادير، قال: ففيم العمل، قال زهير: ثم تكلم ابو الزبير بشيء لم افهمه، فسالت ما قال؟ فقال: اعملوا، فكل ميسر ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سراقہ بن مالک بن جعشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا دین بیان کیجئیے گویا ہم اب پیدا ہوئے ہم جو عمل کرتے ہیں تو اس مقصد کے لیے کرتے ہیں جس کو لکھ کر قلم سوکھ گئی اور تقدیر جاری ہو گئی یا اس مقصد کے لیے جو آگے ہونے والا ہے (اور پہلے سے اس کی نسبت کچھ قرار نہیں پا سکتا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے عمل کرو جس کو لکھ کر قلم سوکھ گئی اور تقدیر جاری ہو چکی۔“ سراقہ نے کہا: پھر عمل سے کیا فائدہ ہے؟ زہیر نے کہا: ابوالزبیر نے کچھ بات کہی جس کو میں نہیں سمجھ سکا، میں نے پوچھا: (لوگوں سے کیا کہا) انہوں نے کہا: ”عمل کرو ہر ایک شخص کے لیے آسان کیا گیا ہے۔“