حدثني محمد بن احمد بن ابي خلف ، حدثنا يحيي بن ابي بكير ، حدثنا زهير ابو خيثمة ، حدثني عبد الله بن عطاء ، ان عكرمة بن خالد حدثه، ان ابا الطفيل حدثه، قال: دخلت على ابي سريحة حذيفة بن اسيد الغفاري ، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم باذني هاتين، يقول: " إن النطفة تقع في الرحم اربعين ليلة، ثم يتصور عليها الملك، قال زهير: حسبته، قال: الذي يخلقها، فيقول: يا رب اذكر او انثى؟ فيجعله الله ذكرا او انثى، ثم يقول: يا رب اسوي، او غير سوي؟ فيجعله الله سويا، او غير سوي، ثم يقول: يا رب، ما رزقه، ما اجله، ما خلقه؟ ثم يجعله الله شقيا او سعيدا ".
ابن طفیل بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں داخل ہوا ابوسریحہ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ پر، ابوسریحہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اپنے ان دونوں کانوں سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےتھے: ”نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس راتوں تک یوں ہی رہتا ہے، پھر فرشتہ اس پر اترتا ہے یعنی وہ فرشتہ جو اس کو پتلا بناتا ہے وہ کہتا ہے: اے پروردگار! یہ مرد ہو گا یا عورت؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کو مرد کرتا ہے یا عورت۔ پھر فرشتہ کہتا ہے: اے پر وردگار! یہ پورا ہو یا ناقص؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرتا ہے یا ناقص، پھر فرشتہ کہتا ہے:اے پروردگار! اس کی روزی کیا ہے؟ اس کی عمر کیا ہے؟ اس کے اخلاق کیسے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کو بدبخت کرتا ہے یا نیک بخت۔“