كِتَاب الْقَدَرِ تقدیر کا بیان

حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، وزهير بن حرب ، واللفظ لابن نمير، قالا: حدثنا سفيان بن عيينة ، عن عمرو بن دينار ، عن ابي الطفيل ، عن حذيفة بن اسيد يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " يدخل الملك على النطفة بعد ما تستقر في الرحم باربعين، او خمسة واربعين ليلة، فيقول يا رب: اشقي او سعيد؟ فيكتبان، فيقول اي رب: اذكر، او انثى؟ فيكتبان، ويكتب عمله، واثره، واجله ورزقه، ثم تطوى الصحف، فلا يزاد فيها ولا ينقص ".

‏‏‏‏ حذیفہ بن اسید سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتہ نطفے کے پاس جاتا ہے، جب وہ بچہ دانی میں جم جاتا ہے چالیس یا پینتالیس دن کے بعد اور کہتا ہے: اے رب! اس کو بدبخت لکھوں یا نیک بخت، پھر جو پروردگار کہتا ہے ویسا ہی لکھتا ہے، پھر کہتا ہے: مرد لکھوں یا عورت، پھر جو پروردگار فرماتا ہے ویسا ہی لکھتا ہے اور اس کا عمل اور عمر اور روزی لکھتا ہے، پھر کتاب لپیٹ دی جاتی ہے نہ اس سے کو ئی چیز بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے۔

صحيح مسلم # 6725
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp