حدثنا محمد بن عبد الله بن قهزاذ ، حدثنا سلمة بن سليمان ، اخبرنا عبد الله ، اخبرنا معمر ، عن ابن شهاب ، حدثني عبد الله بن ابي بكر بن حزم ، عن عروة ، عن عائشة . ح وحدثني عبد الله بن عبد الرحمن بن بهرام ، وابو بكر بن إسحاق ، واللفظ لهما، قالا: اخبرنا ابو اليمان ، اخبرنا شعيب ، عن الزهري ، حدثني عبد الله بن ابي بكر ، ان عروة بن الزبير اخبره، ان عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: جاءتني امراة ومعها ابنتان لها، فسالتني فلم تجد عندي شيئا غير تمرة واحدة، فاعطيتها إياها، فاخذتها فقسمتها بين ابنتيها، ولم تاكل منها شيئا، ثم قامت فخرجت وابنتاها، فدخل علي النبي صلى الله عليه وسلم فحدثته حديثها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " من ابتلي من البنات بشيء، فاحسن إليهن كن له سترا من النار ".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک عورت آئی اس کی دو بیٹیاں اس کے ساتھ تھیں اس نے مجھ سے سوال کیا میرے پاس کچھ نہ تھا ایک کھجور تھی وہی میں نے اس کو دے دی اس نے وہ کجھور لے کر دو ٹکڑےکیے اور ایک ایک ٹکڑا دونوں بیٹیوں کو دیا اور آپ کچھ نہ کھایا، پھر اٹھی اور چلی۔ بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے اس عورت کا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مبتلا ہو بیٹیوں میں (یعنی اس کی بیٹیاں ہوں)، پھر وہ ان کے ساتھ نیکی کرے (ان کو پالے دین کی تعلیم کرے نیک شخص سے نکا ح کر دے) تو وہ قیامت کے دن اس کی آڑ ہوں گی جہنم سے۔“