كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب

حدثنا محمد بن عباد ، وابن ابي عمر ، قالا: حدثنا مروان يعنيان الفزاري ، عن يزيد وهو ابن كيسان ، عن ابي حازم ، عن ابي هريرة ، قال: قيل: يا رسول الله، ادع على المشركين، قال: " إني لم ابعث لعانا، وإنما بعثت رحمة ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا:: یا رسول اللہ! بددعا کیجئیےمشرکو ں پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ لعنت کروں لوگوں پر بلکہ میں بھیجا گیا رحمت کا سبب بن کر۔ (تو میرے آنے سے اللہ کی رحمت لوگوں کو زیادہ ہو گی نہ کہ لعنت۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ» ۱-الأنبیاء: ١٠٧))

صحيح مسلم # 6613
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp