كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب

حدثنا ابو كامل الجحدري فضيل بن حسين ، حدثنا يزيد يعني ابن زريع ، حدثنا التيمي ، عن ابي عثمان ، عن ابي برزة الاسلمي ، قال: " بينما جارية على ناقة عليها بعض متاع القوم، إذ بصرت بالنبي صلى الله عليه وسلم، وتضايق بهم الجبل، فقالت: حل اللهم العنها، قال: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تصاحبنا ناقة عليها لعنة ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار ایک لڑکی اونٹنی پر سوار تھی اس پر لوگوں کا اسباب بھی تھا یکایک اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور راستہ میں پہاڑ کی راہ تنگ تھی، وہ لڑکی بولی:: حل (یہ آواز ہے اونٹ کے ہانکنے کی) یا اللہ! لعنت کر اس پر۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ رہے جس پر لعنت ہے۔

صحيح مسلم # 6606
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp