حدثنا قتيبة بن سعيد ، وابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد ، وزهير بن حرب ، وابن نمير كلهم، عن ابن عيينة واللفظ لزهير، قال: حدثنا سفيان وهو ابن عيينة، عن ابن المنكدر ، سمع عروة بن الزبير ، يقول: حدثتني عائشة : ان رجلا استاذن على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ائذنوا له، فلبئس ابن العشيرة، او بئس رجل العشيرة، فلما دخل عليه الان له القول، قالت عائشة: فقلت: يا رسول الله، قلت له الذي قلت، ثم النت له القول، قال: يا عائشة: " إن شر الناس منزلة عند الله يوم القيامة من ودعه، او تركه الناس اتقاء فحشه ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ایک شخص نے اجازت مانگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجازت دو اس کو برا شخص ہے اپنے کنبہ میں۔“ جب وہ اندر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے باتیں کیں نرمی سے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تو اس کو ایسا فرمایا تھا، پھر اس سے باتیں کیں نرمی سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! برا شخص اللہ کے نزدیک قیامت میں وہ ہو گا جس کو لوگ رخصت کریں یا چھوڑ دیں اس کی بدگمانی کی وجہ سے۔“