حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، واحمد بن عبدة الضبي ، وابن ابي عمر واللفظ لابن ابي شيبة، قال ابن عبدة: اخبرنا، وقال الآخرون: حدثنا سفيان بن عيينة ، قال: سمع عمرو جابر بن عبد الله ، يقول: " كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزاة، فكسع رجل من المهاجرين رجلا من الانصار، فقال الانصاري: يا للانصار، وقال المهاجري: يا للمهاجرين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما بال دعوى الجاهلية؟ قالوا: يا رسول الله، كسع رجل من المهاجرين رجلا من الانصار، فقال: دعوها فإنها منتنة، فسمعها عبد الله بن ابي، فقال: قد فعلوها والله لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل، قال عمر: دعني اضرب عنق هذا المنافق، فقال: دعه لا يتحدث الناس ان محمدا يقتل اصحابه ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جہاد میں تو ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا (ہاتھ سے یا تلوار سے) انصاری نے آواز دی، اے انصار! دوڑو۔ اور مہاجر نے آواز دی، اے مہاجرین! دوڑو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو جاہلیت کا سا پکارنا ہے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو اس بات کو یہ گندی بات ہے۔“ یہ خبر عبداللہ بن ابی کو پہنچی (جو منافق تھا) وہ بولا: مہاجرین نے ایسا کیا قسم اللہ کی اگر ہم مدینہ کو لوٹیں گے تو ہم میں کا عزت والا شخص ذلیل شخص کو وہاں سے نکال دے گا (معاذ اللہ اس منافق نے اپنے تئیں عزت والا قرار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذلیل کہا) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اس منافق کی گردن مارنے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا نے دے اے عمر! لوگ یہ نہ کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں۔“ (گو وہ مردود اسی قابل تھا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصلحت سے اس کو سزا نہ دی)۔