كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب

حدثنا حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن بهرام الدارمي ، حدثنا مروان يعني ابن محمد الدمشقي ، حدثنا سعيد بن عبد العزيز ، عن ربيعة بن يزيد ، عن ابي إدريس الخولاني ، عن ابي ذر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما روى، عن الله تبارك وتعالى، انه قال: " يا عبادي: إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما، فلا تظالموا، يا عبادي: كلكم ضال إلا من هديته، فاستهدوني اهدكم، يا عبادي: كلكم جائع إلا من اطعمته، فاستطعموني اطعمكم، يا عبادي: كلكم عار إلا من كسوته، فاستكسوني اكسكم، يا عبادي: إنكم تخطئون بالليل والنهار وانا اغفر الذنوب جميعا، فاستغفروني اغفر لكم، يا عبادي: إنكم لن تبلغوا ضري، فتضروني ولن تبلغوا نفعي، فتنفعوني، يا عبادي: لو ان اولكم وآخركم، وإنسكم وجنكم، كانوا على اتقى قلب رجل واحد منكم، ما زاد ذلك في ملكي شيئا، يا عبادي: لو ان اولكم وآخركم، وإنسكم وجنكم، كانوا على افجر قلب رجل واحد، ما نقص ذلك من ملكي شيئا، يا عبادي: لو ان اولكم وآخركم، وإنسكم وجنكم، قاموا في صعيد واحد، فسالوني فاعطيت كل إنسان مسالته ما نقص ذلك مما عندي، إلا كما ينقص المخيط إذا ادخل البحر، يا عبادي: إنما هي اعمالكم احصيها لكم، ثم اوفيكم إياها فمن وجد خيرا فليحمد الله، ومن وجد غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه "، قال سعيد: كان ابو إدريس الخولاني إذا حدث بهذا الحديث جثا على ركبتيه.

‏‏‏‏ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے سنا، فرمایا پروردگار نے: اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا اور تم پر بھی حرام کیا، تو تم مت ظلم کرو آپس میں ایک دوسرے پر۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو مگر جس کو میں راہ بتلاؤں تو مجھ سے راہ مانگو میں تم راہ بتلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جس کو میں کھلاؤں تو مجھ سے کھانا مانگو میں تم کو کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو مگر جس کو میں پہناؤں، تو کپڑا مانگو مجھ سے میں پہناؤں گا تم کو۔ اے بندو میرے! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں سب گناہوں کو بخشتا ہوں، تو بخشش چاہو مجھ سے میں بخشوں گا تم کو۔ اے میرے بندو! تم میرا نقصان نہیں کر سکتے اور نہ مجھ کو فائدہ پہنچا سکتے ہو، اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، آدمی اور جنات سب ایسے ہو جائیں جیسے تمہارا بڑا پرہیزگار شخص تو میری سلطنت میں کچھ افزائش نہ ہو گی اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، آدمی اور جنات سب ایسے ہو جائیں جیسے تمہارا بڑا بدکار شخص تو میری سلطنت میں سے کچھ کم نہ ہو گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، آدمی اور جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہوں، پھر مجھ سے مانگنا شروع کریں اور میں ہر ایک کو جو مانگے سو دوں تب بھی میرے پاس جو کچھ ہے وہ کم نہ ہو گا مگر اتنا جیسے دریا میں سوئی ڈبو کر نکال لو (تو دریا کا جتنا پانی کم ہو جاتا ہے اتنا بھی میرا خزانہ کم نہ ہو گا اس لیے کہ دریا کتنا ہی بڑا ہو آخر محدود ہے اور میرا خزانہ بے انتہا ہے پر یہ صرف مثال ہے) اے میرے بندو! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں جن کو تمہارے لیے شمار کرتارہتا ہو ں، پھر تم کو ان اعمال کا پورا بدلہ دوں گا، سو جو شخص بہتر بدلہ پائے تو چاہیے کہ اللہ کا شکر کرے کہ اس کی کمائی بیکار نہ گئی اور جو برا بدلہ پائے تو اپنے ہی تئیں برا سمجھے۔ (کہ اس نے جیسا کیا ویسا پایا)۔ سعید نے کہا: کہ ابوادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تو اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑتے۔

صحيح مسلم # 6572
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp