كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب

حدثني عبيد الله بن عمر القواريري ، حدثنا يزيد بن زريع ، حدثنا الحجاج الصواف ، حدثني ابو الزبير ، حدثنا جابر بن عبد الله ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على ام السائب، او ام المسيب، فقال: ما لك يا ام السائب، او يا ام المسيب تزفزفين؟ قالت: الحمى لا بارك الله فيها، فقال: " لا تسبي الحمى، فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام السائب یا ام المسیب کے پاس گئے تو پوچھا: اے ام السائب یا ام المسیب! تو کانپ رہی ہے کیا ہوا تجھ کو؟ وہ بولی: بخار ہے، اللہ اس کو برکت نہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مت برا کہہ بخار کو کیونکہ وہ دور کر دیتا ہے آدمیوں کے گناہوں کو جیسے بھٹی لوہے کا میل دور کر دیتی ہے۔

صحيح مسلم # 6570
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp