حدثنا قتيبة بن سعيد ، وابو بكر بن ابي شيبة كلاهما، عن ابن عيينة واللفظ لقتيبة، حدثنا سفيان، عن ابن محيصن ، شيخ من قريش، سمع محمد بن قيس بن مخرمة يحدث، عن ابي هريرة ، قال: لما نزلت: من يعمل سوءا يجز به سورة النساء آية 123، بلغت من المسلمين مبلغا شديدا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قاربوا وسددوا، ففي كل ما يصاب به المسلم كفارة حتى النكبة ينكبها، او الشوكة يشاكها "، قال مسلم: هو عمر بن عبد الرحمن بن محيصن من اهل مكة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب یہ آیت اتری «مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ» (۴-النساء: ۱۲۳) ”جو کوئی برائی کرے گا اس کو اس کا بدلہ ملے گا“ تو مسلمانوں پر بہت سخت گزرا (کہ ہرگناہ کے بدلے ضرور عذاب ہو گا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میانہ روی اختیار کرو اور ٹھیک راستے کو ڈھونڈو اور مسلمان کی ہر ایک مصیبت کفارہ ہے یہاں تک کہ ٹھوکر اور کانٹا بھی .“ (تو بہت سے گناہوں کا بدلہ دنیا ہی میں ہو جائے گا اور امید ہے کہ آخرت میں مواخذہ نہ ہو)۔