كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب

حدثني محمد بن المثنى ، ومحمد بن بشار ، واللفظ لابن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، قال: سمعت العلاء بن عبد الرحمن يحدث، عن ابيه ، عن ابي هريرة : ان رجلا، قال: " يا رسول الله، إن لي قرابة اصلهم ويقطعوني، واحسن إليهم ويسيئون إلي، واحلم عنهم ويجهلون علي، فقال: لئن كنت كما قلت، فكانما تسفهم المل، ولا يزال معك من الله ظهير عليهم ما دمت على ذلك ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! میرےکچھ ناتے والے ہیں میں ان سے احسان کرتا ہوں اور وہ برائی کرتے ہیں، میں ناتا ملاتا ہوں اور وہ توڑتے ہیں، میں بردباری کرتا ہوں اور وہ جہالت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر حقیقت میں تو ایسا ہی کرتا ہے تو ان کے منہ پر جلتی راکھ ڈالتا ہے اور ہمیشہ اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک فرشتہ رہے گا جو تم کو ان پر غالب رکھے گا جب تک تو اس حالت پر رہے گا۔

صحيح مسلم # 6525
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp