حدثنا قتيبة بن سعيد بن جميل بن طريف بن عبد الله الثقفي ، ومحمد بن عباد ، قالا: حدثنا حاتم وهو ابن إسماعيل ، عن معاوية وهو ابن ابي مزرد مولى بني هاشم، حدثني عمي ابو الحباب سعيد بن يسار ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الله خلق الخلق، حتى إذا فرغ منهم قامت الرحم، فقالت: هذا مقام العائذ من القطيعة؟ قال: نعم، اما ترضين ان اصل من وصلك، واقطع من قطعك؟ قالت: بلى، قال: فذاك لك، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقرءوا إن شئتم: فهل عسيتم إن توليتم ان تفسدوا في الارض وتقطعوا ارحامكم {22} اولئك الذين لعنهم الله فاصمهم واعمى ابصارهم {23} افلا يتدبرون القرءان ام على قلوب اقفالها {24} سورة محمد آية 22-24 ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ اللہ تعالیٰ نے خلق کو بنایا، پھر جب ان کے بنانے سے فراغت پائی تو ناتا کھڑا ہوا اور بولا: یہ مقام اس کا ہے (یعنی بزبان حال یا کوئی فرشتہ اس کی طرف سے بولا اور یہ تاویل ہے اور ظاہری معنی ٹھیک ہے کہ خود ناتا بولا: اور کوئی مانع نہیں ہے ناتے کی زبان ہونے سے اس عالم میں) جو ناتا توڑنے سے پناہ چاہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ہاں تو اس بات سے خوش نہیں کہ میں اس سے ملوں جو تجھ کو ملائے اور اس سے کاٹوں جو تجھ کو کاٹے۔“ ناتا بولا: میں راضی ہوں اس سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”پس تجھ کو یہ درجہ حاصل ہوا۔“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارا جی چاہے تو اس آیت کو پڑھو اللہ تعالیٰ منافقوں سے فرماتا ہے: «فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ * أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ * أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا *» (۴۷-محمد: ۲۲-۲۴) ”اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور ناتوں کو توڑو۔ یہ لوگ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔ ان کو بہرا کر دیا (حق بات کے سننے سے) اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا۔ کیا غور نہیں کرتے قرآن میں، کیا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہیں۔“