حدثني هارون بن سعيد الايلي ، حدثنا عبد الله بن وهب ، حدثني معاوية يعني ابن صالح ، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير ، عن ابيه ، عن نواس بن سمعان ، قال: اقمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة سنة ما يمنعني من الهجرة، إلا المسالة كان احدنا إذا هاجر لم يسال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شيء، قال: فسالته عن البر والإثم؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " البر حسن الخلق، والإثم ما حاك في نفسك، وكرهت ان يطلع عليه الناس ".
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں ایک سال تک رہا (اس طرح جیسے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لیے دوسرے ملک سے آتا اور اپنے ملک میں، پھر جانے کا ارادہ رکھتا ہے) اور میں نے ہجرت نہ کی (یعنی اپنے ملک میں جانے کا ارادہ موقوف نہ کیا) مگر اس وجہ سے کہ جب کوئی ہم میں سے ہجرت کر لیتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ پوچھتا (برخلاف مسافروں کے ان کو پوچھنے کی اجازت تھی) میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلائی اور برائی کے بارے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلائی اور نیکی حسن خلق ہے اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور لوگوں کو اس کی خبر ہونا برا لگےتجھ کو۔“