كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب

حدثني محمد بن حاتم بن ميمون ، حدثنا ابن مهدي ، عن معاوية بن صالح ، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير ، عن ابيه ، عن النواس بن سمعان الانصاري ، قال: " سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم؟ فقال: البر حسن الخلق، والإثم ما حاك في صدرك، وكرهت ان يطلع عليه الناس ".

‏‏‏‏ سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بھلائی اور برائی کے متعلق۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلائی حسن خلق کو کہتے ہیں (یعنی خوش مزاجی سے ملنا لوگوں کی دلداری اور دل جوئی کرنا حتی المقدور دنیاوی امور میں کسی کو ناراض نہ کرنا) اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں چبھے اور تجھ کو برا لگےکہ لوگ اس سے مطلع ہوں۔

صحيح مسلم # 6516
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp