حدثنا حسن بن علي الحلواني ، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، حدثنا ابي ، والليث بن سعد جميعا، عن يزيد بن عبد الله بن اسامة بن الهاد ، عن عبد الله بن دينار ، عن ابن عمر ، انه كان إذا خرج إلى مكة كان له حمار يتروح عليه إذا مل ركوب الراحلة، وعمامة يشد بها راسه، فبينا هو يوما على ذلك الحمار إذ مر به اعرابي، فقال: الست ابن فلان بن فلان؟ قال: بلى، فاعطاه الحمار، وقال: اركب هذا والعمامة، قال: اشدد بها راسك، فقال له بعض اصحابه: غفر الله لك اعطيت هذا الاعرابي حمارا، كنت تروح عليه وعمامة كنت تشد بها راسك، فقال إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " إن من ابر البر صلة الرجل اهل ود ابيه بعد ان يولي "، وإن اباه كان صديقا لعمر.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب مکہ کو جاتے تو ایک گدھا رکھتے اپنے ساتھ تفریح کے لیے اس پر چڑھتے جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے اور ایک عمامہ رکھتے جو سر میں باندھتے۔ ایک دن وہ گدھے پر جا رہے تھے، اتنے میں ایک گنوار نکلا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: تو فلاں کا بیٹا ہے؟ فلاں کا پوتا ہے؟ وہ بولا: ہاں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس کو گدھا دے دیا اور اور کہا: اس پر چڑھ اور عمامہ بھی دے دیا اور کہا: اپنے سر پر باندھ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کے بعض ساتھی بولے: تم نے اپنی تفریح کا گدھا دے دیا اور عمامہ بھی دے دیا جو اپنے سر پر باندھتے تھے اللہ تم کو بخشے۔ انہوں نے کہا:: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی سلوک کرے اپنے باپ کے دوستوں سے باپ کے مر جانے کے بعد۔“ اور اس گنوار کا باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔