كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب

حدثنا شيبان بن فروخ ، حدثنا سليمان بن المغيرة ، حدثنا حميد بن هلال ، عن ابي رافع ، عن ابي هريرة ، انه قال: " كان جريج يتعبد في صومعة، فجاءت امه، قال حميد: فوصف لنا ابو رافع صفة ابي هريرة، لصفة رسول الله صلى الله عليه وسلم امه حين دعته كيف جعلت كفها فوق حاجبها، ثم رفعت راسها إليه تدعوه، فقالت يا جريج: انا امك كلمني، فصادفته يصلي، فقال: اللهم امي وصلاتي، فاختار صلاته، فرجعت، ثم عادت في الثانية، فقالت يا جريج: انا امك فكلمني، قال: اللهم امي وصلاتي، فاختار صلاته، فقالت: اللهم إن هذا جريج وهو ابني وإني كلمته، فابى ان يكلمني اللهم فلا تمته حتى تريه المومسات، قال: ولو دعت عليه ان يفتن لفتن، قال: وكان راعي ضان ياوي إلى ديره، قال: فخرجت امراة من القرية فوقع عليها الراعي، فحملت فولدت غلاما، فقيل لها: ما هذا؟ قالت: من صاحب هذا الدير، قال: فجاءوا بفؤوسهم ومساحيهم فنادوه فصادفوه يصلي، فلم يكلمهم، قال: فاخذوا يهدمون ديره، فلما راى ذلك نزل إليهم، فقالوا له: سل هذه، قال: فتبسم ثم مسح راس الصبي، فقال: من ابوك؟ قال: ابي راعي الضان، فلما سمعوا ذلك منه، قالوا: نبني ما هدمنا من ديرك بالذهب والفضة، قال: لا، ولكن اعيدوه ترابا كما كان ثم علاه ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جریج (ایک عابد تھا بنی اسرائیل میں) عبادت کر رہا تھا عبادت خانہ میں، اتنے میں اس کی ماں آئی۔ حمید نے کہا: ابورافع نے بیان کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جیسے بیان کیا، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ اس کی ماں نے اپنا ہاتھ ابرو پر رکھا اور سر اٹھایا جریج کو پکارنے کو تو بولی: اے جریج! میں تیری ماں ہوں، مجھ سے بات کر۔ جریج اس وقت نماز میں تھا، وہ بولا: (اپنے دل میں) یا اللہ! میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں، پھر وہ اپنی نماز میں رہا اس کی ماں لوٹ گئی۔ دوسرے دن، پھر آئی اور بولی: اے جریج! میں تیری ماں ہوں، مجھ سے بات کر۔ وہ کہنے لگا: اے رب میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں۔ آخر وہ نماز میں مشغول رہے۔ وہ بولی: یا اللہ! یہ جریج ہے اور میرا بیٹا ہے میں نے اس سے بات کی لیکن اس نے بات کرنے سے انکار کیا۔ یا اللہ! مت مارنا اس کو جب تک بدکار عورتو ں کو نہ دیکھ لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ دعا کرتی جریج کسی فتنہ میں پڑے البتہ پڑ جاتا (پر اس نے صرف اسی قدر دعا کی کہ بدکار عورتوں کو دیکھے)۔ ایک چرواہا تھا بھیڑوں کا جو جریج کے عبادت خانہ کے پاس ٹھہرا کرتا تھا، تو گاؤں سے ایک عورت باہر نکلی وہ چرواہا اس پر چڑھ بیٹھا اس کو حمل ٹھر گیا۔ ایک لڑکا جنا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا: یہ لڑکا کہاں سے لائی؟ وہ بولی: اس عبادت خانہ میں جو رہتا ہے اس کا لڑکا ہے۔ یہ سن کر (بستی کے لوگ) اپنی کدالیں اور پھاوڑے لے کر آئے اور جریج کو آواز دی۔ وہ نماز میں تھا اس نے بات نہ کی، لوگ اس کا عبادت خانہ گرا نے لگے جب اس نے یہ دیکھا تو اترا۔ لوگوں نے اس سے کہا: اس عورت سے پوچھ کیا کہتی ہے؟ جریج ہنسا اور اس نے لڑکے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا: تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا: میرا باپ بھیڑوں کا چرواہا ہے۔ جب لوگوں نے بچہ سے یہ بات سنی تو کہنے لگے: جتنا عبادت خانہ ہم نے تیرا گرایا ہے وہ سو نے اور چاندی سے بنا دیتے ہیں۔ جریج نے کہا: نہیں مٹی ہی سے درست کر دو جیسا پہلے تھا، پھر چڑھ گیا اس کے اوپر۔

صحيح مسلم # 6508
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp