كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب

حدثنا قتيبة بن سعيد بن جميل بن طريف الثقفي ، وزهير بن حرب ، قالا: حدثنا جرير ، عن عمارة بن القعقاع ، عن ابي زرعة ، عن ابي هريرة ، قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " من احق الناس بحسن صحابتي؟ قال: امك، قال: ثم من؟ قال: ثم امك، قال: ثم من؟ قال: ثم امك؟ قال: ثم من؟ قال: ثم ابوك "، وفي حديث قتيبة: من احق بحسن صحابتي، ولم يذكر الناس.

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا: یا رسول اللہ! سب لوگوں میں کس کا زیادہ حق ہے مجھ پر سلوک کرنے کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں کا۔ وہ بولا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں کا۔ وہ بولا: پھر کون؟ فرمایا: تیری ماں کا۔ وہ بولا: پھر کون؟ فرمایا: تیرے باپ کا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کو مقدم کیا کس لیے کہ ماں بچے کے ساتھ بہت محنت کرتی ہے، حمل نو مہینے، پھر جننا، پھر دودھ پلانا، پھر پالنا، بیماری دکھ میں خبر لینا۔ حارث محاسبی نے کہا: اجماع کیا ہے علماء نے کہ ماں مقدم ہے باپ پر نیک سلوک کرنے میں اور بعضوں نے دونوں کو برابر کہا ہے اور صواب ماں کی تقدیم ہے)۔

صحيح مسلم # 6500
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp