حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد ، عن ثور ، عن ابي الغيث ، عن ابي هريرة ، قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم، إذ نزلت عليه سورة الجمعة، فلما قرا: وآخرين منهم لما يلحقوا بهم سورة الجمعة آية 3، قال رجل: من هؤلاء يا رسول الله؟ فلم يراجعه النبي صلى الله عليه وسلم حتى ساله مرة، او مرتين، او ثلاثا، قال: وفينا سلمان الفارسي، قال فوضع النبي صلى الله عليه وسلم يده على سلمان، ثم قال: " لو كان الإيمان عند الثريا لناله رجال من هؤلاء ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھےتھے۔ اتنے میں سورۂ جمعہ اتری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» «۶۲-الجعة: ٣» یعنی ”پاک ہے وہ اللہ جس نے پیغمبر بھیجا عرب کی طرف اور اوروں کی طرف جو ابھی عرب سے نہیں ملے۔“ ایک شخص نے پوچھا: یہ لوگ کون ہیں جو عرب کے سوا ہیں یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جو اب نہ دیا یہاں تک کہ اس نے ایک بار، دو بار، یا تین بار پوچھا: اس وقت ہم لوگوں میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان پر رکھا اور فرمایا: ”اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو بھی ان کی قوم میں سے کچھ لوگ اس تک پہنچ جاتے۔“