حدثنا ابو كريب محمد بن العلاء ، حدثنا ابو اسامة ، حدثنا بريد ، عن ابي بردة ، عن ابي موسى ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إني لاعرف اصوات رفقة الاشعريين بالقرآن حين يدخلون بالليل، واعرف منازلهم من اصواتهم بالقرآن بالليل، وإن كنت لم ار منازلهم حين نزلوا بالنهار، ومنهم حكيم إذا لقي الخيل، او قال العدو، قال لهم: إن اصحابي يامرونكم ان تنظروهم ".
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اشعریوں کی آواز قرآن پاک پڑھنے سے پہچان لیتا ہوں جب وہ رات کو آتے ہیں اور رات کو ان کی آواز سے ان کا ٹھکانا بھی پہچان لیتا ہوں اگرچہ دن کو ان کا ٹھکانا نہ دیکھا ہو جب وہ دن کو اترے ہوں اور انہی لوگوں میں سے ایک شخص حکیم ہے کہ جب کافروں کے سواروں سے یا دشمنوں سے ملتا ہے تو ان سے کہتا ہے کہ ہمارے لوگ تم سے کہتے ہیں ذرا ہم کو فرصت دو یا تھوڑا انتظار کرو یعنی ہم بھی تیار ہیں لڑنے کو آتے ہیں (تو اپنے تئیں دانائی اور حکمت سے بچا لیتا ہے کیونکہ دشمن یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اکیلا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ اور لوگ ہیں)۔