كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثني هارون بن عبد الله ، حدثنا حجاج بن محمد ، قال: قال ابن جريج : اخبرني ابو الزبير ، انه سمع جابر بن عبد الله ، يقول: اخبرتني ام مبشر ، انها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول عند حفصة: " لا يدخل النار إن شاء الله من اصحاب الشجرة احد الذين بايعوا تحتها، قالت: بلى يا رسول الله، فانتهرها، فقالت حفصة: وإن منكم إلا واردها سورة مريم آية 71، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: قد قال الله عز وجل: ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا سورة مريم آية 72 ".

‏‏‏‏ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس: اگر اللہ چاہے تو اصحاب شجرہ میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے گا یعنی جن لوگوں نے بیعت کی اس درخت کے نیچے۔ انہوں نے کہا: کیوں نہ جائیں گے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھڑکا۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَإِنْ مِنْكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا» (۱۹ مریم: ۷۱) یعنی کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے جو جہنم پر نہ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد یہ ہے «ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا» (۱۹ مریم: ۷۲) یعنی پھر ہم نجات دیں گے پرہیز گاروں کو اور چھوڑ دیں گے ظالموں کو گھٹنوں کے بل۔

صحيح مسلم # 6404
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp