حدثنا عمرو الناقد ، حدثنا عمر بن يونس اليمامي ، حدثنا عكرمة بن عمار ، عن ابي كثير يزيد بن عبد الرحمن ، حدثني ابو هريرة ، قال: " كنت ادعو امي إلى الإسلام وهي مشركة، فدعوتها يوما فاسمعتني في رسول الله صلى الله عليه وسلم ما اكره، فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابكي، قلت: يا رسول الله، إني كنت ادعو امي إلى الإسلام، فتابى علي، فدعوتها اليوم فاسمعتني فيك ما اكره، فادع الله ان يهدي ام ابي هريرة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم اهد ام ابي هريرة، فخرجت مستبشرا بدعوة نبي الله صلى الله عليه وسلم، فلما جئت فصرت إلى الباب، فإذا هو مجاف، فسمعت امي خشف قدمي، فقالت: مكانك يا ابا هريرة، وسمعت خضخضة الماء، قال: فاغتسلت ولبست درعها وعجلت عن خمارها، ففتحت الباب، ثم قالت يا ابا هريرة: اشهد ان لا إله إلا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله، قال: فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتيته وانا ابكي من الفرح، قال: قلت: يا رسول الله، ابشر قد استجاب الله دعوتك وهدى ام ابي هريرة، فحمد الله واثنى عليه، وقال: خيرا، قال: قلت: يا رسول الله، ادع الله ان يحببني انا وامي إلى عباده المؤمنين ويحببهم إلينا، قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم حبب عبيدك هذا يعني ابا هريرة وامه إلى عبادك المؤمنين، وحبب إليهم المؤمنين، فما خلق مؤمن يسمع بي ولا يراني إلا احبني ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنی ماں کو بلاتا تھا اسلام کی طرف، وہ مشرکہ تھی، ایک دن میں نے اس سے مسلمان ہونے کے لیےکہا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےحق میں وہ بات سنائی جو مجھ کو ناگوار گزری۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا روتا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی ماں کو اسلام کی طرف بلاتا تھا وہ نہ مانتی تھی، آج اس نے آپ کے حق میں وہ بات مجھ کو سنائی جو مجھے ناگوار ہے، تو آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیےکہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کر۔“ میں خوش ہو کر نکلا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے جب گھر پر آیا اور دروازے پر پہنچا تو وہ بند تھا۔ میری ماں نے میرے پاؤں کی آواز سنی اور بولی ذرا ٹھہر جا۔ میں نے پانی کے گرنے کی آواز سنی۔ غرض میری ماں نے غسل کیا اور اپنا کرتا پہنا اور جلدی سے اوڑھنی اوڑھی پھر دروازہ کھولا اور بولی: اے ابو ہریرہ! میں گواہی دیتی ہوں کہ کوئی برحق معبود نہیں ہے سوا اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتا ہوا آیا خوشی سے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! خوش ہو جائیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کی اور ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف اور اس کی صفت کی اور بہتر بات کہی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ عزوجل سے دعا کیجئیے کہ میری اور میری ماں کی محبت مسلمانوں کے دلوں میں ڈال دے اور ان کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! اپنے بندے کی یعنی ابوہریرہ اور ان کی ماں کی محبت اپنے مؤمن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور مؤمنوں کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے۔“ پھر کوئی مؤمن ایسا نہیں پیدا ہوا جس نے مجھے سنا ہو یا دیکھا ہو مگر محبت رکھی اس نے مجھ سے۔