كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا قتيبة بن سعيد ، وإسحاق بن إبراهيم ، واللفظ لقتيبة، حدثنا جرير ، عن الاعمش ، عن سليمان بن مسهر ، عن خرشة بن الحر ، قال: " كنت جالسا في حلقة في مسجد المدينة، قال: وفيها شيخ حسن الهيئة وهو عبد الله بن سلام، قال: فجعل يحدثهم حديثا حسنا، قال: فلما قام، قال القوم من سره: ان ينظر إلى رجل من اهل الجنة، فلينظر إلى هذا، قال: فقلت: والله لاتبعنه فلاعلمن مكان بيته، قال: فتبعته فانطلق حتى كاد ان يخرج من المدينة، ثم دخل منزله، قال: فاستاذنت عليه، فاذن لي، فقال: ما حاجتك يا ابن اخي؟ قال: فقلت له: سمعت القوم يقولون لك لما قمت من سره، ان ينظر إلى رجل من اهل الجنة فلينظر إلى هذا، فاعجبني ان اكون معك، قال: الله اعلم باهل الجنة، وساحدثك مم، قالوا ذاك: إني بينما انا نائم، إذ اتاني رجل، فقال لي: قم فاخذ بيدي، فانطلقت معه، قال: فإذا انا بجواد، عن شمالي، قال: فاخذت لآخذ فيها، فقال لي: لا تاخذ فيها، فإنها طرق اصحاب الشمال، قال: فإذا جواد منهج على يميني، فقال لي: خذ هاهنا فاتى بي جبلا، فقال لي: اصعد، قال: فجعلت إذا اردت ان اصعد خررت على استي، قال: حتى فعلت ذلك مرارا، قال: ثم انطلق بي حتى اتى بي عمودا راسه في السماء، واسفله في الارض في اعلاه حلقة، فقال لي: اصعد فوق هذا، قال: قلت: كيف اصعد هذا وراسه في السماء؟ قال: فاخذ بيدي، فزجل بي، قال: فإذا انا متعلق بالحلقة، قال: ثم ضرب العمود فخر، قال: وبقيت متعلقا بالحلقة حتى اصبحت، قال: فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقصصتها عليه، فقال: اما الطرق التي رايت عن يسارك، فهي طرق اصحاب الشمال، قال: واما الطرق التي رايت عن يمينك، فهي طرق اصحاب اليمين، واما الجبل فهو منزل الشهداء ولن تناله، واما العمود فهو عمود الإسلام، واما العروة فهي عروة الإسلام، ولن تزال متمسكا بها حتى تموت ".

‏‏‏‏ خرشہ بن حر سے روایت ہے، میں ایک حلقہ میں بیٹھا مدینہ کی مسجد میں وہاں ایک بوڑھا تھا خوبصورت، معلوم ہو ا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن سلام ہیں۔ وہ لوگوں سے اچھی اچھی باتیں کر رہے تھےجب وہ کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا: کہ جس کو بھلا لگےجنتی کو دیکھنا وہ اس کو دیکھے۔میں نے (اپنے دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور ان کا گھر دیکھوں گا، پھر میں ان کے پیچھے ہوا وہ چلے یہاں تک کہ قریب تھا کہ شہر سے باہر نکل جائیں۔، پھر اپنے مکان میں گئے، میں نے بھی اجازت چاہی اندر آنے کی، انہوں نے اجازت دی، پھر پوچھا: اے بھتیجے میرے! کیا کام ہے تیرا؟ میں نے کہا: لوگوں سے میں نے سنا جب تم کھڑے ہوئے وہ کہتے تھے: جس کو خوش لگے کسی جنتی کا دیکھنا وہ ان کو دیکھے۔ تو مجھے اچھا معلوم ہو ا تمہارے ساتھ رہنا، انہوں نے کہا:: اللہ تعالیٰ جانتا ہے جنت والوں کو اور میں تجھ سے وجہ بیان کرتا ہوں لوگوں کے یہ کہنے کی۔ میں ایک بار سو رہا تھا خواب میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا: کھڑا ہو، پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا میں اس کے ساتھ چلا، مجھے بائیں طرف کچھ راہیں ملیں، میں نے ان میں جانا چاہا، وہ بولا: ان میں مت جا یہ بائيں طرف والوں کی راہیں ہیں (یعنی کا فروں کی)، پھر داہنی طرف کی راہیں ملیں وہ شخص بولا: ان راہو ں میں جا، پھر ایک پہاڑ ملا وہ شخص بولا: اس پر چڑھ۔ میں نے جو چڑھنا چاہا تو سرین (چوتڑ) کے بل گرا۔ کئی بار میں نے قصد کیا چڑھنے کا لیکن ہر بار گرا۔، پھر وہ مجھے لے چلا یہاں تک کہ ایک ستون ملا جس کی چوٹی آسمان میں تھی اور تہ زمین میں۔ اس کے اوپر ایک حلقہ لگا تھا۔ مجھ سے کہا: اس ستون کے اوپر چڑھ جا۔ میں نے کہا: میں اس پر کیوں کر چڑھوں اس کا سرا تو آسمان میں ہے۔ آخر اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اچھال دیا، میں جو دیکھتا ہوں تو اس حلقہ کو پکڑے ہوئے لٹک رہا ہو ں، پھر اس شخص نے ستون کو مارا وہ گر پڑا اور میں صبح تک اسی حلقہ میں لٹکتا رہا (اس وجہ سے کہ اترنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا) جب میں جاگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خواب بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو راہیں تو نے بائیں طرف دیکھیں وہ بائيں طرف والوں کی راہیں ہیں اور جو راہیں داہنی طرف دیکھیں وہ داہنی طرف والوں کی راہیں ہیں اور پہاڑ وہ شہیدوں کا درجہ ہے تو وہاں تک نہ پہنچ سکے گا اور ستون اسلام کا ستون ہے اور حلقہ وہ اسلام کا حلقہ ہے، تو اسلام پر قائم رہے گا مرتے دم تک۔ (اور جب خاتمہ اسلام پر ہو گا تو جنت کا یقین ہے اس وجہ سے لوگ مجھے جنتی کہتے ہیں)۔

صحيح مسلم # 6383
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp