كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا محمد بن المثنى العنزي ، حدثنا معاذ بن معاذ ، حدثنا عبد الله بن عون ، عن محمد بن سيرين ، عن قيس بن عباد ، قال: " كنت بالمدينة في ناس فيهم بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء رجل في وجهه اثر من خشوع، فقال بعض القوم: هذا رجل من اهل الجنة، هذا رجل من اهل الجنة، فصلى ركعتين يتجوز فيهما، ثم خرج، فاتبعته، فدخل منزله ودخلت فتحدثنا، فلما استانس، قلت له: إنك لما دخلت قبل، قال رجل: كذا وكذا، قال: سبحان الله، ما ينبغي لاحد ان يقول ما لا يعلم، وساحدثك لم ذاك رايت رؤيا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقصصتها عليه، رايتني في روضة ذكر سعتها، وعشبها، وخضرتها، ووسط الروضة عمود من حديد اسفله في الارض، واعلاه في السماء في اعلاه عروة، فقيل لي: ارقه، فقلت له: لا استطيع، فجاءني منصف، قال ابن عون: والمنصف الخادم، فقال: بثيابي من خلفي وصف انه رفعه من خلفه بيده، فرقيت حتى كنت في اعلى العمود، فاخذت بالعروة، فقيل لي: استمسك فلقد استيقظت وإنها لفي يدي، فقصصتها على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: تلك الروضة الإسلام، وذلك العمود عمود الإسلام، وتلك العروة عروة الوثقى، وانت على الإسلام حتى تموت، قال: والرجل عبد الله بن سلام ".

‏‏‏‏ سیدنا قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں مدینہ میں تھا کچھ لوگوں میں جن میں بعض صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے ایک شخص آیا اس کے چہرے پر اللہ کے خوف کا اثر تھا۔ بعض لوگ کہنے لگے: یہ جنتی ہے، یہ جنتی ہے۔ اس نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر چلا۔ میں بھی اس کے پیچھے گیا، وہ اپنے مکان میں گیا، میں بھی اس کے ساتھ اندر گیا اور باتیں کیں، جب دل لگ گیا تو میں نے اس سے کہا: تم جب مسجد میں آئے تھے تو ایک شخص ایسا ایسا بولا: (یعنی تم جنتی ہو) اس نے کہا:: سبحان اللہ! کسی کو نہیں چاہیے وہ بات کہنی جو نہیں جانتا اور میں تجھ سے بیان کرتا ہوں لوگ کیوں ایسا کہتے ہیں، میں نے ایک خواب دیکھا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں۔ وہ خواب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک باغ میں ہوں (جس کی وسعت اور پیداوار اور سبزی کا حال اس نے بیان کیا) اس باغ کے بیچ میں ایک ستون ہے لوہے کا وہ نیچے تو زمین کے اندر ہے اور اوپر آسمان تک گیا ہے اس کی بلندی پر ایک حلقہ ہے، مجھ سے کہا گیا: اس پر چڑھ۔ میں نے کہا: میں نہیں چڑھ سکتا، پھر ایک خدمتگار آیا اس نے میرے کپڑے پیچھے سے اٹھائے اور بیان کیا کہ اس نے اپنے ہاتھ سے مجھے پیچھے سے اٹھایا: میں چڑھ گیا، یہاں تک کہ اس ستون کی بلندی پر پہنچ گیا اور حلقہ کو میں نے تھام لیا۔ مجھ سے کہا: گیا: اس کو تھامے رہو، پھر میں جاگا اور وہ حلقہ اس وقت تک میرے ہاتھ میں ہی تھا۔ یہ خواب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ باغ اسلام ہے اور یہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ مضبوط حلقہ ہے دین کا اور تو اسلام پر قائم رہے گا مرتے دم تک۔ قیس نے کہا: وہ شخص سیدنا عبداللہ بن سلام تھے۔

صحيح مسلم # 6381
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp