حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا جرير ، عن إسماعيل بن ابي خالد ، عن قيس بن ابي حازم ، عن جرير بن عبد الله البجلي ، قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا جرير: الا تريحني من ذي الخلصة بيت لخثعم؟ كان يدعى كعبة اليمانية، قال: فنفرت في خمسين ومائة فارس، وكنت لا اثبت على الخيل، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فضرب يده في صدري، فقال: اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا، قال: فانطلق فحرقها بالنار، ثم بعث جرير إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يبشره، يكنى ابا ارطاة منا، فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال له: ما جئتك حتى تركناها كانها جمل اجرب، فبرك رسول الله صلى الله عليه وسلم على خيل احمس ورجالها، خمس مرات ".
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے جریر! تو مجھ کو آرام نہیں دیتا ذوالخلصہ سے۔“ جو بت خانہ تھا خثعم کا (ایک قبیلہ ہے) اس کو کعبہ یمانی بھی کہتے تھے۔ جریر نے کہا:: میں ڈیڑھ سو سوار لے کر وہاں گیا اور میں گھوڑے پر نہیں جمتا تھا میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا: ”اللہ جما دے اس کو، اور راہ دکھانے والا، راہ پایا ہو ا کر دے۔“، پھر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ گئے اور ذوالخلصہ کو انگار سے جلا دیا۔ بعد اس کے ایک شخص جس کا نام ابوارطاة تھا خوشخبری کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ہم ذوالخلصہ کو خارشتی اونٹ کی طرح چھوڑ کر آئے (خارشتی اونٹ پر کالاروغن ملتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ بھی جل کر کالا ہو گیا تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احمس کے گھوڑوں اور مر دوں کے لیے برکت کی دعا کی پانچ مرتبہ۔