كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثني عبد الحميد بن بيان ، اخبرنا خالد ، عن بيان ، عن قيس ، عن جرير ، قال: " كان في الجاهلية بيت، يقال له ذو الخلصة، وكان يقال له الكعبة اليمانية، والكعبة الشامية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هل انت مريحي من ذي الخلصة، والكعبة اليمانية، والشامية؟ فنفرت إليه في مائة وخمسين من احمس فكسرناه، وقتلنا من وجدنا عنده فاتيته فاخبرته، قال: فدعا لنا ولاحمس ".

‏‏‏‏ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ایک بت خانہ تھا (یمن میں) جس کو ذوالخلصہ کہتے تھے اور کعبہ یمانی یا کعبہ شامی بھی اس کا نام تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے جریر! تو مجھے بےفکر کرتا ہے ذوالخلصہ اور کعبہ یمانی اور شامی کی طرف سے۔ (یعنی اس کو تباہ اور برباد کر کہ لوگ شرک سے باز آئیں) میں ایک سو پچاس آدمی احمس قبیلے کے اپنے ساتھ لے کر گیا اور ذوالخلصہ کو توڑا اور جتنے لوگوں کو وہاں پایا قتل کیا، پھر لوٹ کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے اور احمس کے قبیلے کے لیے دعا کی۔

صحيح مسلم # 6365
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp