وحدثني إبراهيم بن محمد بن عرعرة السامي ، ومحمد بن حاتم ، وتقاربا في سياق الحديث، واللفظ لابن حاتم، قالا: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي ، حدثنا المثنى بن سعيد ، عن ابي جمرة ، عن ابن عباس ، قال: " لما بلغ ابا ذر مبعث النبي صلى الله عليه وسلم بمكة، قال لاخيه: اركب إلى هذا الوادي فاعلم لي علم هذا الرجل الذي يزعم انه ياتيه الخبر من السماء، فاسمع من قوله، ثم ائتني فانطلق الآخر حتى قدم مكة وسمع من قوله، ثم رجع إلى ابي ذر، فقال: رايته يامر بمكارم الاخلاق، وكلاما ما هو بالشعر، فقال: ما شفيتني فيما اردت فتزود، وحمل شنة له فيها ماء حتى قدم مكة، فاتى المسجد فالتمس النبي صلى الله عليه وسلم ولا يعرفه، وكره ان يسال عنه حتى ادركه يعني الليل، فاضطجع فرآه علي فعرف انه غريب، فلما رآه تبعه، فلم يسال واحد منهما صاحبه عن شيء حتى اصبح ثم احتمل قربته، وزاده إلى المسجد، فظل ذلك اليوم ولا يرى النبي صلى الله عليه وسلم حتى امسى، فعاد إلى مضجعه فمر به علي، فقال: ما انى للرجل ان يعلم منزله، فاقامه فذهب به معه، ولا يسال واحد منهما صاحبه عن شيء حتى إذا كان يوم الثالث، فعل مثل ذلك، فاقامه علي معه، ثم قال له: الا تحدثني ما الذي اقدمك هذا البلد، قال: إن اعطيتني عهدا وميثاقا لترشدني؟ فعلت ففعل، فاخبره، فقال: فإنه حق وهو رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإذا اصبحت فاتبعني، فإني إن رايت شيئا اخاف عليك قمت كاني اريق الماء، فإن مضيت فاتبعني، حتى تدخل مدخلي، ففعل فانطلق يقفوه، حتى دخل على النبي صلى الله عليه وسلم ودخل معه، فسمع من قوله، واسلم مكانه، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ارجع إلى قومك فاخبرهم حتى ياتيك امري، فقال: والذي نفسي بيده، لاصرخن بها بين ظهرانيهم، فخرج حتى اتى المسجد، فنادى باعلى صوته اشهد ان لا إله إلا الله، وان محمدا رسول الله وثار القوم، فضربوه حتى اضجعوه، فاتى العباس فاكب عليه، فقال: ويلكم الستم تعلمون انه من غفار، وان طريق تجاركم إلى الشام عليهم، فانقذه منهم، ثم عاد من الغد بمثلها وثاروا إليه فضربوه، فاكب عليه العباس فانقذه ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، جب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی مکہ میں خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا: اس وادی کو جا سوار ہو کر اور اس شخص کو دیکھ کر آ جو کہتا ہے مجھے پر آسمان سے خبر آتی ہے۔ ان کی بات سن، پھر میرے پاس آ۔ وہ روانہ ہو ا یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ کر گیا اور بولا: میں نے اس شخص کو دیکھا وہ حکم کرتا ہے اچھی خصلتوں کا اور ایک کلام سناتا ہے جو شعر نہیں ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سے مجھ کو تسکین نہیں ہوئی، پھر انہوں نے توشہ لیا اور ایک مشک لی پانی کی یہاں تک کہ مکہ میں آئے اور مسجد حرام میں داخل ہوئے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہ تھے اور انہوں نے پوچھنا بھی مناسب نہ جانا یہاں تک کہ رات ہو گئی وہ لیٹ رہے , سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا اور پہچانا کہ کوئی مسافر ہے، پھر ان کے پیچھے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہیں کی یہاں تک کہ صبح ہو گئی، پھر وہ اپنا توشہ اور مشک مسجد میں اٹھا لائے اور سارا دن وہاں ر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شام تک نہ دیکھا، پھر وہ اپنے سونے کی جگہ میں چلے آئے۔ وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ گزرے اور کہا: ابھی وہ وقت نہیں آیا جو اس شخص کو اپنا ٹھکانا معلوم ہو؟، پھر ان کو کھڑا کیا اور ان کے ساتھ گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہ کی یہاں تک کہ تیسرا دن ہو ا، اس دن بھی ایسا ہی کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے ساتھ کھڑا کیا، پھر کہا: تم مجھ سے کیوں نہیں کہتے جس کے لیے تم اس شہر میں آئے ہو، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم مجھ سے عہد اور اقرار کرتے ہو کہ میں راہ بتلاؤں گا تو میں کہتا ہوں، انہوں نے اقرار کیا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سب حال بیان کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ شخص سچے ہیں اور وہ بے شک اللہ کے رسول ہیں اور تم صبح کو میرے ساتھ چلنا اور اگر میں کوئی خوف کی بات دیکھوں گا جس میں تمہاری جان کا ڈر ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا جیسے کوئی پانی بہاتا ہے اور جو چلا جاؤں تو تم بھی میرے پیچھے پیچھے چلے آنا۔ جہاں میں جاؤن تم بھی جانا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ان کے پیچھےچلے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ پہنچے، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اسی جگہ مسلمان ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی قوم کے پاس جا اور ان کو دین کی خبر کر یہاں تک کہ میراحکم تجھے پہنچے۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تو یہ بات (یعنی دین کی دعوت) مکہ والوں کو پکار کر سنا دوں گا، پھر ابوذر رضی اللہ عنہ نکلے اور مسجد میں آئے اور چلا کر بولے۔ «أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» اور لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کو مارتے مارتے لٹا دیا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ پر جھکے اور لوگوں سے کہا: خرابی ہو تمہاری، تم نہیں جانتے یہ شخص غفار کا ہے اور تمہارا راستہ سوداگر ی کا شام کو غفار کے ملک پر سے ہے (تو وہ تمہاری تجارت بند کر دیں گے)، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں سے چھڑا لیا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے دوسرے روز بھی ایسا ہی کیا اور لوگ دوڑے اور مارا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آڑے آئے اور ان کو چھڑا لیا۔