حدثنا محمد بن المثنى العنزي ، حدثني ابن ابي عدي ، قال: انبانا ابن عون ، عن حميد بن هلال ، عن عبد الله بن الصامت ، قال: قال ابو ذر : يا ابن اخي، صليت سنتين قبل مبعث النبي صلى الله عليه وسلم، قال: قلت: فاين كنت توجه؟ قال: حيث وجهني الله، واقتص الحديث بنحو حديث سليمان بن المغيرة، وقال في الحديث: فتنافرا إلى رجل من الكهان، قال: فلم يزل اخي انيس يمدحه حتى غلبه، قال: فاخذنا صرمته فضممناها إلى صرمتنا، وقال ايضا في حديثه: قال فجاء النبي صلى الله عليه وسلم، فطاف بالبيت وصلى ركعتين خلف المقام، قال: فاتيته، فإني لاول الناس حياه بتحية الإسلام، قال: قلت: السلام عليك يا رسول الله، قال: وعليك السلام من انت؟ وفي حديثه ايضا، فقال: منذ كم انت هاهنا؟ قال: قلت: منذ خمس عشرة وفيه، فقال ابو بكر: اتحفني بضيافته الليلة؟.
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے دو برس پہلے نماز پڑھی اور یہ ہے کہ دونوں ایک کاہن کے پاس گئے۔ انیس نے اس کاہن کی تعریف شروع کی یہاں تک کہ اس پر غالب آیا اور ہم نے اس کے اونٹ بھی لے کر اپنے اونٹوں میں ملا لیے اور یہ ہے کہ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کے پیچھے اور میں سب سے پہلے وہ شخص ہوں جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانی کا سلام کیا اور یہ ہے کہ میں نے کہا: کہ میں میں پندرہ دن سے یہاں ہوں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:: مجھے عزت دیجئیے ان کی ضیافت سے آج کی رات۔