حدثنا هداب بن خالد الازدي ، حدثنا سليمان بن المغيرة ، اخبرنا حميد بن هلال ، عن عبد الله بن الصامت ، قال: قال ابو ذر : " خرجنا من قومنا غفار، وكانوا يحلون الشهر الحرام، فخرجت انا واخي انيس وامنا فنزلنا على خال لنا، فاكرمنا خالنا، واحسن إلينا فحسدنا قومه، فقالوا: إنك إذا عن اهلك خالف إليهم انيس، فجاء خالنا فنثا علينا الذي قيل له، فقلت: اما ما مضى من معروفك فقد كدرته، ولا جماع لك فيما بعد، فقربنا صرمتنا فاحتملنا عليها وتغطى خالنا ثوبه، فجعل يبكي فانطلقنا حتى نزلنا بحضرة مكة، فنافر انيس عن صرمتنا، وعن مثلها فاتيا الكاهن، فخير انيسا فاتانا انيس بصرمتنا، ومثلها معها، قال: وقد صليت يا ابن اخي قبل ان القى رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاث سنين، قلت: لمن؟ قال: لله، قلت: فاين توجه؟ قال: اتوجه حيث يوجهني ربي، اصلي عشاء حتى إذا كان من آخر الليل القيت كاني خفاء، حتى تعلوني الشمس، فقال انيس: إن لي حاجة بمكة فاكفني، فانطلق انيس حتى اتى مكة، فراث علي، ثم جاء، فقلت: ما صنعت؟ قال: لقيت رجلا بمكة على دينك، يزعم ان الله ارسله، قلت: فما يقول الناس؟ قال: يقولون: شاعر كاهن، ساحر، وكان انيس احد الشعراء، قال انيس: لقد سمعت قول الكهنة فما هو بقولهم، ولقد وضعت قوله على اقراء الشعر فما يلتئم على لسان احد بعدي، انه شعر، والله إنه لصادق وإنهم لكاذبون، قال: قلت: فاكفني حتى اذهب فانظر، قال: فاتيت مكة، فتضعفت رجلا منهم، فقلت: اين هذا الذي تدعونه الصابئ؟ فاشار إلي، فقال الصابئ: فمال علي اهل الوادي بكل مدرة وعظم حتى خررت مغشيا علي، قال: فارتفعت حين ارتفعت، كاني نصب احمر، قال: فاتيت زمزم، فغسلت عني الدماء، وشربت من مائها، ولقد لبثت يا ابن اخي ثلاثين بين ليلة، ويوم ما كان لي طعام إلا ماء زمزم، فسمنت حتى تكسرت عكن بطني، وما وجدت على كبدي سخفة جوع، قال: فبينا اهل مكة في ليلة قمراء إضحيان، إذ ضرب على اسمختهم، فما يطوف بالبيت احد، وامراتين منهم تدعوان إسافا ونائلة، قال: فاتتا علي في طوافهما، فقلت: انكحا احدهما الاخرى، قال: فما تناهتا عن قولهما، قال: فاتتا علي، فقلت: هن مثل الخشبة غير اني لا اكني، فانطلقتا تولولان، وتقولان: لو كان هاهنا احد من انفارنا، قال: فاستقبلهما رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وهما هابطان، قال: ما لكما؟ قالتا: الصابئ بين الكعبة واستارها، قال: ما قال لكما؟ قالتا إنه قال لنا: كلمة تملا الفم، وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى استلم الحجر، وطاف بالبيت هو وصاحبه، ثم صلى، فلما قضى صلاته، قال ابو ذر: فكنت انا اول من حياه بتحية الإسلام، قال: فقلت: السلام عليك يا رسول الله، فقال: وعليك ورحمة الله، ثم قال: من انت؟ قال: قلت: من غفار، قال: فاهوى بيده فوضع اصابعه على جبهته، فقلت: في نفسي كره ان انتميت إلى غفار، فذهبت آخذ بيده، فقدعني صاحبه، وكان اعلم به مني، ثم رفع راسه، ثم قال: متى كنت هاهنا؟ قال: قلت: قد كنت هاهنا منذ ثلاثين بين ليلة ويوم، قال: فمن كان يطعمك؟ قال: قلت: ما كان لي طعام إلا ماء زمزم، فسمنت حتى تكسرت عكن بطني، وما اجد على كبدي سخفة جوع، قال: إنها مباركة، إنها طعام طعم، فقال ابو بكر: يا رسول الله، ائذن لي في طعامه الليلة، فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم، وابو بكر، وانطلقت معهما، ففتح ابو بكر بابا، فجعل يقبض لنا من زبيب الطائف، وكان ذلك اول طعام اكلته بها، ثم غبرت ما غبرت، ثم اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إنه قد وجهت لي ارض ذات نخل لا اراها إلا يثرب، فهل انت مبلغ عني قومك عسى الله ان ينفعهم بك وياجرك فيهم، فاتيت انيسا، فقال: ما صنعت؟ قلت: صنعت اني قد اسلمت وصدقت، قال: ما بي رغبة عن دينك، فإني قد اسلمت وصدقت فاتينا امنا، فقالت: ما بي رغبة عن دينكما، فإني قد اسلمت وصدقت، فاحتملنا حتى اتينا قومنا غفارا، فاسلم نصفهم، وكان يؤمهم ايماء بن رحضة الغفاري وكان سيدهم، وقال: نصفهم إذا قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة اسلمنا، فقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة فاسلم نصفهم الباقي، وجاءت اسلم، فقالوا: يا رسول الله، إخوتنا نسلم على الذي اسلموا عليه فاسلموا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " غفار غفر الله لها، واسلم سالمها الله ".
سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنی قوم غفار میں سے نکلے وہ حرام مہینے کو بھی حلال سمجھتے تھے، تو میں اور میرا بھائی انیس اور ہماری ماں تنیوں نکلے اور ایک ماموں تھا ہمارا اس کے پاس اترے۔ اس نے ہماری خاطر کی اور ہمارے ساتھ نیکی کی اس کی قوم نے ہم سے حسد کیا اور کہنے لگے (ہمارے ماموں سے) جب تو اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے تو انیس تیری بی بی کے ساتھ زنا کرتا ہے اور وہ ہمارے پاس آيا اور اس نے یہ بات مشہور کر دی (حماقت سے)، میں نے کہا: تو نے جو ہمارے ساتھ احسان کیا وہ بھی خراب ہو گیا، اب ہم تیرے ساتھ نہیں رہ سکتے، آخر ہم اپنے اونٹوں کے پاس گئے اور اپنا اسباب لادا، ہمارے ماموں نے اپنا کپڑا اوڑھ کر رونا شروع کیا، ہم چلے یہاں تک کہ مکہ کے سامنے اترے۔ انیس نے ایک شرط لگائی اتنے اونٹوں پر جو ہمارے ساتھ تھےاور اتنے ہی اور پر، پھر دونوں کاہن کے پاس گئے۔ کاہن نے انیس کو کہا کہ یہ بہتر ہے۔ انیس ہمارے اونٹ لایا اور اتنے ہی اور اونٹ لایا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بیٹے میرے بھائی کے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سے پہلے نماز پڑھی ہے تین برس پہلے۔ میں نے کہا: کس کے لیے پڑھتے تھے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے لیے۔ میں نے کہا: منہ کدھر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: منہ ادھر کرتا تھا جدھر اللہ تعالیٰ میرا منہ کر دیتا تھا۔ میں عشاء کی نماز پڑھتا جب اخیر رات ہوتی تو کمبل کی طرح پڑ جاتا تھا یہاں تک کہ آفتاب میرے اوپر آتا انیس نے کہا: مجھے مکہ میں کام ہے تم یہاں رہو میں جاتا ہوں وہ گیا، اس نے دیر کی، پھر آیا میں نے کہا: تو نے کیا کیا؟ وہ بولا: میں ایک شخص سے ملا مکہ میں جو تیرے دین پر ہے اور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھیجا ہے، میں نے کہا: لوگ اسے کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: لوگ اس کو شاعر، کاہن، جادوگر کہتے ہیں اور انیس خود بھی شاعرتھا اس نے کہا: میں نے کاہنوں کی بات سنی ہے لیکن جو کلام یہ شخص پڑھتا ہے وہ کاہنوں کا کلام نہیں ہے اور میں نے اس کا کلام شعر کے تمام بحروں پر رکھا تو وہ کسی کی زبان پر میرے بعد نہ جڑے گا شعر کی طرح۔ اللہ کی قسم! وہ سچا ہے اور لوگ جھوٹے ہیں، میں نے کہا: تم یہاں رہو میں اس شخص کو جا کر دیکھتا ہوں، پھر میں مکہ میں آیا۔ میں نے ایک ناتوان شخص کو مکہ والوں میں سے چھانٹا (اس لیےکہ زبردست شخص شاید مجھے تکلیف پہنچا دے) اور اس سے پوچھا: وہ شخص کہاں ہے جس کو تم «صابي» کہتے ہو (یعنی دین بدلنے والا عرب کےکفار معاذ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو «صابي» کہتے تھے) اس نے میری طرف اشارہ کیا اور کہا: یہ «صابي» ہے (جب «صابي» کا تو پوچھتا ہے) یہ سن کر تمام وادی والے ڈھیلے ہڈیاں لے کر مجھ پر پلے یہاں تک کہ میں بےہوش ہو کر گرا۔ جب میں ہوش میں آ کر اٹھا تو کیا دیکھتا ہوں گویا میں لال بت ہوں (یعنی سر سے پیر تک خون سے لال ہوں) پھر میں زمزم کے پاس آیا اور میں نے سب خون دھویا اور زمزم کا پانی پیا، تو اے بھتیجے میرے! میں وہاں تیس راتیں اور تیس دن رہا اور کوئی کھانا میرے پاس نہ تھا سوائے زمزم کے پانی کے (جب مجھے بھوک لگتی تو اس کو پی لیتا) پھر میں موٹا ہو گیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی بٹیں جھک گئیں (مٹاپے سے) اور میں نے اپنے کلیجہ میں بھوک کی ناتوانی نہیں پائی ایک بار مکہ والے چاندنی رات میں سو گئے اس وقت بیت اللہ کا طواف کوئی نہیں کرتا تھا صرف دو عورتیں اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں (اساف اور نائلہ دو بت تھے مکہ میں اساف مرد تھا اور نائلہ عورت تھی کفار کا یہ اعتقاد تھا کہ ان دونوں نے وہاں زنا کیا تھا اس وجہ سے مسخ ہو کر بت ہو گئے تھے) وہ طواف کرتی کرتی میرے سامنے آئیں۔ میں نے کہا: ایک کا نکاح دوسرے سے کر دو (یعنی اساف کا نائلہ سے) یہ سن کر بھی وہ اپنی بات سے باز نہ آئیں پھر میں نے صاف کہہ دیا ان کے فلاں میں لکڑی (یعنی یہ فحش اساف اور نائلہ کی پرستش کی وجہ ہے) اور مجھے کنایہ نہیں آتا (یعنی کنایہ اشارہ میں میں نے گالی نہیں دی کھلم کھلا گالی دی اساف اور نائلہ کو ان مردوں اور عورتوں کو غصہ دلانے کے لیے جو اللہ تعالیٰ کے گھر میں اللہ کو چھوڑ کر اساف اور نائلہ کو پکارتی تھیں) یہ سن کر وہ دونوں عورتیں چلاتی اور کہتی ہوئی چلیں: کاش اس وقت میں کوئی ہمارے لوگوں میں سے ہوتا (جو اس شخص کو بےادبی کی سزا دیتا) راہ میں ان عورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ملے اور وہ اتر رہے تھے پہاڑ سے، انہوں نے ان عورتوں سے پوچھا کیا ہوا؟ وہ بولیں ایک «صابي» آیا ہے جو کعبہ کے پردوں میں چھپا ہے، انہوں نے کہا: وہ «صابي» کیا بولا: وہ بولیں: ایسی بات بولا جس سے منہ بھر جاتا ہے (یعنی اس کو زبان سے نکال نہیں سکتیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ حجر اسود کو بوسہ دیا اور طواف کیا اپنے صاحب کے ساتھ، پھر نماز پڑھی، جب نماز پڑھ چکے تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ہی اول اسلام کی سنت ادا کی اور کہا: السلام علیک یا رسول اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وعلیک ورحمة الله“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کون ہے؟“ میں نے کہا غفار کا ایک شخص ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ جھکایا اور اپنی انگلیاں پیشانی پر رکھیں (جیسے کوئی ذکر کرتا ہے) میں نے اپنے دل میں کہا: شایدآ پ کو برا معلوم ہوا یہ کہناکہ میں غفار میں سے ہوں، میں لپکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑنے کو لیکن آپ کےصاحب نے (سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ نے) نے جو مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حال جانتے تھے مجھےروکا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”تو یہاں کب آیا؟“ میں نے عرض کیا: میں یہاں تیس رات یا دن سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھےکھانا کون کھلاتا ہے؟“، میں نے کہا: کھانا وغیرہ کچھ نہیں سوائے زمزم کے پانی کے۔ پھر میں موٹا ہو گیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بٹ مڑ گئے اور میں اپنے کلیجہ میں بھوک کی ناتوانی نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمزم کا پانی برکت والا ہے اور وہ کھانا بھی ہے اور پیٹ بھر دیتا ہے کھانے کی طرح۔“ سیدنا ابوبکر نے کہا: یا رسول اللہ! آج کی رات مجھے اجازت دیجئیے اس کو کھلانے کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی، میں بھی ان دونوں کے ساتھ چلا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک دروازہ کھولا اور اس میں سے طائف کے سوکھے انگور نکالنے لگے، یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے کھایا مکہ میں۔ پھر رہا میں جب تک رہا۔ بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دکھلائی گئی زمین کھجور والی میں سمجھتا ہوں وہ کوئی زمین نہیں ہے سوائے یثرب کے (یثرب مدینہ طیبہ کا نام تھا) تو تو میری طرف سے اپنی قوم کو دین کی دعوت دے شاید اللہ تعالیٰ ان کو نفع دے تیری وجہ سے اور تجھے ثواب دے۔“ میں انیس کے پاس آیا۔ اس نے پوچھا: تو نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں اسلام لایا اور میں نے تصدیق کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی۔ وہ بولا: تمہارے دین سے مجھے بھی نفرت نہیں ہے، میں بھی اسلام لایا اور میں نے بھی تصدیق کی، پھر ہم دونوں اپنی ماں کے پاس آئے۔ وہ بولی: مجھے بھی تم دونوں کے دین سے نفرت نہیں ہے میں بھی اسلام لائی اور میں نے بھی تصدیق کی، پھر ہم نے اونٹوں پر اسباب لادا یہاں تک کہ ہم اپنی قوم غفار میں پہنچے آدھی قوم مسلمان ہو گئی اور ان کا امام ایما بن حضہ غفاری تھا وہ ان کا سردار بھی تھا اور آدھی قوم نے یہ کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائیں گے تو ہم مسلمان ہوں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور آدھی قوم جو باقی تھی وہ بھی مسلمان ہو گئی اور اسلم (ایک قوم ہے) کے لوگ آئے انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم بھی اپنے بھائی غفاریوں کی طرح مسلمان ہوتے ہیں وہ بھی مسلمان ہوئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غفار کو اللہ نے بخش دیا اور اسلم کو اللہ نے بچا دیا۔“ (قتل اور قید سے)۔