حدثنا عبيد بن يعيش ، ومحمد بن العلاء الهمداني ، قالا: حدثنا ابو اسامة ، عن ابي حيان . ح وحدثنا محمد بن عبد الله بن نمير واللفظ له، حدثنا ابي ، حدثنا ابو حيان التيمي يحيي بن سعيد ، عن ابي زرعة ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لبلال عند صلاة الغداة يا بلال: " حدثني بارجى عمل عملته عندك في الإسلام منفعة، فإني سمعت الليلة خشف نعليك بين يدي في الجنة، قال بلال: ما عملت عملا في الإسلام ارجى عندي منفعة من اني لا اتطهر طهورا تاما في ساعة من ليل ولا نهار، إلا صليت بذلك الطهور ما كتب الله لي ان اصلي ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال رضی اللہ عنہ سے صبح کی نماز پڑھ کر ”اے بلال! بیان کر مجھ سے وہ عمل جو تو نے کیا ہے اسلام میں جس کے فائدے کی تجھے زیادہ امید ہےکیونکہ میں نے آج کی رات تیرے جوتوں کی آواز سنی اپنے سامنے جنت میں۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کوئی عمل اسلام میں جس کے نفع کی امید بہت ہو اس سے زیادہ نہیں کیا کہ میں جب پورا وضو کرتا ہوں کسی وقت میں رات یا دن کو تو اس وضو سے نماز پڑھتا ہوں جتنی اللہ عزوجل نے میری قسمت میں لکھی ہے۔