كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا ابو كامل الجحدري فضيل بن حسين ، حدثنا ابو عوانة ، عن فراس ، عن عامر ، عن مسروق ، عن عائشة ، قالت: " كن ازواج النبي صلى الله عليه وسلم عنده، لم يغادر منهن واحدة، فاقبلت فاطمة تمشي ما تخطئ مشيتها من مشية رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا، فلما رآها رحب بها، فقال: مرحبا بابنتي، ثم اجلسها عن يمينه، او عن شماله، ثم سارها، فبكت بكاء شديدا، فلما راى جزعها سارها الثانية فضحكت، فقلت لها: خصك رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين نسائه بالسرار، ثم انت تبكين، فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم، سالتها: ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: ما كنت افشي على رسول الله صلى الله عليه وسلم سره، قالت: فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم، قلت: عزمت عليك بما لي عليك من الحق لما حدثتني، ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقالت: اما الآن فنعم اما حين سارني في المرة الاولى فاخبرني، ان جبريل كان يعارضه القرآن في كل سنة مرة، او مرتين، وإنه عارضه الآن مرتين، وإني لا ارى الاجل إلا قد اقترب، فاتقي الله واصبري، فإنه نعم السلف انا لك، قالت: فبكيت بكائي الذي رايت، فلما راى جزعي سارني الثانية، فقال يا فاطمة: اما ترضي ان تكوني سيدة نساء المؤمنين، او سيدة نساء هذه الامة، قالت: فضحكت ضحكي الذي رايت ".

‏‏‏‏ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب بیبیاں آپ کے صلی اللہ علیہ وسلم پاس تھیں (آپ کی بیماری میں) کوئی باقی نہ تھی جو نہ ہو، اتنے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اسی طرح چلتی تھیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو مرحبا کہا اور فرمایا: مرحبا میری بیٹی، پھر ان کو اپنے داہنی طرف بٹھایا یا بائيں طرف اور ان کے کان میں چپکے سے کچھ فرمایا: وہ بہت روئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ حال دیکھا تو دوبارہ ان کےکان میں کچھ فرمایا وہ ہنسیں میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص تم سے راز کی باتیں کیں، پھر تم روئی ہو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا: کیا فرمایا تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان کو قسم دی اس حق کو جو میرا ان پر تھا اور کہا: بیان کرو مجھ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا: اب البتہ میں بیان کر دوں گی۔ پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرےکان میں یہ فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام ہر سال میں ایک بار یا دو بار مجھ سے قرآن کا دور کرتے اس سال انہوں نے دو بار دور کیا اور میں خیال کرتا ہوں کہ میرا وقت قریب آ گیا ہے (دنیا سے جانے کا) تو اللہ سے ڈرتی رہ اور صبر کر میں تیرا بہت اچھا پیش خیمہ ہوں۔ یہ سن کر میں رونے لگی جیسے تم نے دیکھا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا رونا دیکھا تو دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: اے فاطمہ! تو راضی نہیں ہے اس بات سے کہ مؤمنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو۔ یہ سن کر میں ہنسی جیسے تم نے دیکھا۔

صحيح مسلم # 6313
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp