كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا احمد بن عبد الله بن يونس ، وقتيبة بن سعيد كلاهما، عن الليث بن سعد ، قال ابن يونس: حدثنا ليث، حدثنا عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة القرشي التيمي ، ان المسور بن مخرمة حدثه، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر، وهو يقول: " إن بني هشام بن المغيرة استاذنوني ان ينكحوا ابنتهم علي بن ابي طالب، فلا آذن لهم، ثم لا آذن لهم، ثم لا آذن لهم، إلا ان يحب ابن ابي طالب ان يطلق ابنتي، وينكح ابنتهم، فإنما ابنتي بضعة مني يريبني ما رابها، ويؤذيني ما آذاها ".

‏‏‏‏ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی اپنی بیٹی کا نکاح کرنے کے لیے سیدنا علی بن ابی طالب سے (یعنی ابوجہل کی بیٹی کا جس کے نکاح کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیام دیا تھا) تو میں اجازت نہ دوں گا، نہ دوں گا، نہ دوں گا البتہ اس صورت میں اجازت دیتا ہوں کہ علی میری بیٹی کو طلاق دیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کریں اس لیےکہ میری بیٹی ایک ٹکڑا ہے میرا۔ شک میں ڈالتا ہے مجھ کو جو اس کو شک ڈالتا ہے اور ایذا ہوتی ہے مجھ کو جس سے اس کو ایذا ہوتی ہے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینا ہر حال میں حرام ہے اگرچہ ایذا کا سبب امر مباح ہو، دوسرا نکاح کرنا اگرچہ جائز تھا لیکن جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس سے رنج ہوتاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رنج کی وجہ سے رنج ہوتا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا، بوجہ کمال شفقت کے علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا پر دوسرے یہ کہ شاید سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی فتنہ میں پڑ جاتیں رشک کی وجہ سے جو عورتوں کا طبعی امر ہے)۔

صحيح مسلم # 6307
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp