حدثني عبد الملك بن شعيب بن الليث بن سعد ، حدثني ابي ، عن جدي ، حدثني عقيل بن خالد ، قال: قال ابن شهاب : اخبرني سعيد بن المسيب ، وعروة بن الزبير ، في رجال من اهل العلم، ان عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول وهو صحيح: إنه لم يقبض نبي قط حتى يرى مقعده في الجنة ثم يخير، قالت عائشة: فلما نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم وراسه على فخذي غشي عليه ساعة، ثم افاق، فاشخص بصره إلى السقف، ثم قال: اللهم الرفيق الاعلى، قالت عائشة: قلت: إذا لا يختارنا، قالت عائشة: وعرفت الحديث الذي كان يحدثنا به وهو صحيح في قوله: " إنه لم يقبض نبي قط حتى يرى مقعده من الجنة ثم يخير، قالت عائشة: فكانت تلك آخر كلمة تكلم بها رسول الله صلى الله عليه وسلم، قوله: اللهم الرفيق الاعلى ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے تندرستی کی حالت میں: ”کوئی نبی نہیں فوت ہوا یہاں تک کہ اس نے اپنا ٹھکانا جنت میں دیکھ نہیں لیا اور اختیار نہیں ملا دنیا سے جانے کے لیے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت آ گیا تو آپ کا سر میری ران پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ساعت تک بیہوش رہے، پھر ہوش میں آئے اور اپنی آنکھ چھت کی طرف لگائی اور فرمایا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى» ”یا اللہ! بلند رفیقوں کے ساتھ کر۔“ (یعنی پیغمبروں کے ساتھ۔ جو اعلی علیین میں رہتے ہیں) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس وقت میں نے کہا: اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اختیار کرنے والے نہیں اور مجھے یاد آئی وہ حدیث جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی تندرستی کی حالت میں کہ ”کوئی نبی نہیں فوت ہوا یہاں تک کہ اس نے اپنا ٹھکانا جنت میں دیکھ نہ لیا ہو اور اس کو اختیار نہ ملا ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ آخری کلمہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى» ۔