حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، وابن نمير ، قالوا: حدثنا ابن فضيل ، عن عمارة ، عن ابي زرعة ، قال: سمعت ابا هريرة ، قال: " اتى جبريل النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، هذه خديجة قد اتتك معها إناء فيه إدام، او طعام، او شراب، فإذا هي اتتك، فاقرا عليها السلام من ربها عز وجل ومني، وبشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب "، قال ابو بكر في روايته، عن ابي هريرة: ولم يقل سمعت، ولم يقل في الحديث: ومني.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ خدیجہ ہیں، آپ کے پاس آتی ہیں ایک برتن لے کر، اس میں سالن ہے یا کھانا ہے یا شربت ہے، پھر جب وہ آئیں تو آپ ان کو سلام کہیے ان کے پر وردگار کی طرف سے اور میری طرف سے اور ان کو خوشخبری دے دیجئیے ایک گھر کی جنت میں جو خولدار موتی کا بنا ہو ا ہے، نہ اس میں شور و غل ہے، نہ کوئی تکلیف ہے۔