حدثنا يحيي بن يحيي ، ويحيي بن ايوب ، وقتيبة ، وابن حجر ، قال يحيي بن يحيي: اخبرنا، وقال الآخرون: حدثنا إسماعيل يعنون ابن جعفر ، عن عبد الله بن دينار ، انه سمع ابن عمر ، يقول: " بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثا، وامر عليهم اسامة بن زيد، فطعن الناس في إمرته، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إن تطعنوا في إمرته، فقد كنتم تطعنون في إمرة ابيه، من قبل وايم الله إن كان لخليقا للإمرة، وإن كان لمن احب الناس إلي، وإن هذا لمن احب الناس إلي بعده ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا سردار سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کیا لوگوں نے اس کی سرداری پر طعن کیا (کہ ایک نوجوان شخص کو بڑے بڑے مہاجرین اور انصار کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افسر کیا) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اگر تم طعنہ کرتے ہو اسامہ کی سرداری میں تو البتہ تم طعنہ کر چکے ہو اس کے باپ کی سرداری میں اور اللہ کی قسم اس کا باپ سرداری کے لائق تھا اور سب لوگوں میں وہ میرا زیادہ پیارا تھا اور اب اسامہ اس کے بعد سب لوگوں میں مجھے پیارا ہے۔